نیتن یاہو اور ٹرمپ کی کال سے متعلق کی رپورٹ درست نہیں، تجزیہ کار

03 جون ، 2026

کراچی (نیوز ڈیسک) سینئر سیاسی تجزیہ کار امیت سیگل کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی ٹیم سے وابستہ ایک انتہائی سینئر عہدیدار کے مطابق رات گئے ہونے والی نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیلیفون کال سے متعلق ایکسیوس ( Axios )کی رپورٹ درست نہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے نہ تو ذاتی نوعیت کے ایسے ریمارکس دیے کہ نیتن یاہو جیل جا سکتے ہیں اور نہ ہی یہ کہا کہ نیتن یاہو کو عالمی سطح پر نفرت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، یہ کشیدہ گفتگو زیادہ تر سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے متضاد بیانات کے گرد رہی۔ ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ نیتن یاہو کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جنگ پوری شدت سے جاری ہے، جبکہ نیتن یاہو کا خیال تھا کہ ٹرمپ کے بیانات سے مکمل جنگ بندی کا مطلب اخذ کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے یہ ضرور کہا کہ اسرائیل کے عالمی موقف کا دفاع کرنا مشکل ہے اور اس سے نفرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ آخرکار، بات چیت ایک سمجھوتے پر ختم ہوئی جس کے مطابق اسرائیل اس وقت تک بیروت پر حملے سے گریز کرے گا جب تک اس کی اپنی سرحدوں کے اندر اس پر حملہ نہیں کیا جاتا، جبکہ بیروت کا ذکر اسی تناظر میں آیا۔