آئندہ مالی سال ، جائیداد خریدوفروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجاویز تیار

03 جون ، 2026

اسلام آباد( رپورٹ ، تنویر ہاشمی) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27کے وفاقی بجٹ میں جائیداد کی خریدوفروخت پر عائد ٹیکس میں بڑی کمی کرنے کی تجاویز تیارکی ہیں ، ذرائع کے مطابق ریئل سٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد خریدنے پر ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد جبکہ غیر منقولہ جائیداد فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویزدی ہے اس معاملے پر آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس میں کمی کی تجاویز کی مخالفت کی جارہی ہے،حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکسوں میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں سرگرمیاں بڑھیں گی اور مجموعی ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے،ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس قوانین کی شق 236K اور 236C کے تحت پراپرٹی لین دین پر عائد ٹیکس کم کرنے کی تجویز زیر غور ہےتاہم یہ ریلیف صرف فائلرز کےلیے تجویز کیاگیا ہے اور نان فائلرز کےلیے ٹیکس میں کمی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ،رئیل سٹیٹ سیکٹر کے ماہراحسن ملک نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے پراپرٹی کی خریدو فروخت میں کمی آئی ، ٹیکسوں میں کمی سے جائیداد کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوگا،نئی سرمایہ کاری آئے گی، انہوں نے کہاکہ نان فائلرز کےلیے بھی ایک مرتبہ ٹیکس میں کمی کی تجویز سے متعلق کوئی سکیم لائی جائے تاکہ انہیں فائلربننے کی جانب راغب کیاجاسکے، دستاویزات کے مطابق انکم ٹیکس کی شق236کے،کے تحت فائلر کے لیے فیئر مارکیٹ ریٹ کے مطابق 5کروڑر وپے تک تک جائیداد کی خریداری پر 1.5فیصد ٹیکس عائد ہے۔