متبادل ذرائع سے توانائی ضروریات، جامع حکمت عملی پر کام ہورہا ہے، وزیراعظم

03 جون ، 2026

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ توانائی ضروریات متبادل ذرائع سے پورا کرنے کیلئے جامع حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی ترقی اور معیشت کی مجموعی بہتری کے لیے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات کا جائزہ لینے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، الیکٹرک وہیکل پالیسی، متبادل توانائی اور شعبہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ، برآمدات میں اضافے پر زور، اجلاس میں مختلف وزارتوں اور متعلقہ اداروں نے جاری اور مجوزہ پالیسی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ایسی مؤثر پالیسیاں تشکیل دینا ہے جن کے ذریعے ملکی پیداوار میں اضافہ ہو، برآمدات کو فروغ ملے اور اقتصادی سرگرمیوں میں وسعت آئے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں متعارف کرائی جانے والی اصلاحات طویل المدتی معاشی فوائد اور عوامی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھ کر مرتب کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی سازی کا مقصد صرف قلیل المدتی نتائج حاصل کرنا نہیں بلکہ مستقبل کے لیے مضبوط اور مستحکم معاشی بنیادیں فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ اجلاس میں توانائی کے شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع پر جامع حکمت عملی کے تحت بھرپور انداز میں کام جاری ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ توانائی کی بچت اور کم لاگت ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے ایک جامع اور مؤثر الیکٹرک وہیکل پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے اور اس کے مؤثر استعمال کے لیے تمام وزارتوں اور ماہرین کے درمیان بامعنی مشاورت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی معیشت کی رفتار تیز کرنے، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور عالمی مسابقت میں بہتری لانے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مؤثر ترقیاتی پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر کامیاب عملدرآمد کے لیے تمام وزارتوں کو باہمی تعاون، ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔