قائمہ کمیٹی نے ترک شدہ جائیدادیں (انتظام) (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دیدی

03 جون ، 2026

اسلام آباد ( رانا غلام قادر ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے "ترک شدہ جائیدادیں (انتظام) (ترمیمی) بل 2026" اور "آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026" کی منظوری دے دی، وفاقی حکومت کی منظوری سے "وفاقی حکومت جائیداد انتظامی اتھارٹی" کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا جائے گا جو وفاقی حکومت کی جائیدادوں کو سنبھالے اور لیز پر دے گا۔کمیٹی نے "آرکائیول میٹریل (تحفظ اور برآمد پر کنٹرول) (ترمیمی) بل 2026" کی ترمیم کے ساتھ منظوری دے دی۔ یہ منظوری چیئر مین قا ئمہ کمیٹی ملک ابرار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں دی گئی جو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی نے وفاقی حکومت کی جائیداد کے انتظام کے لیے ایک اتھارٹی کے قیام کی سفارش کی۔ کمیٹی نے حکومتی املاک کے شفاف اور دانشمندانہ استعمال پر زور دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔کمیٹی نے تفصیلی بحث کے بعد متفقہ طور پر مجوزہ قانون کو بغیر کسی ترمیم کے اسمبلی سے منظور کروانے کی سفارش کی۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ حکومتی املاک سے زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد کے حصول کیلئے شفاف حکمت عملی بنائی جائے۔ بحث کے دوران چیئرمین کمیٹی ملک ابرار احمد نے کہا کہ ان کے ذاتی علم میں ہے کہ کئی سرکاری املاک قبضہ مافیہ کے قبضہ میں ہیں۔ انہوں نے ریلوے کی زمین پر قبضے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بطور ممبر انہوں نے ریلوے سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا جس پر کمیٹی کی ہدایت پر قابضین کو بے دخل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں کی توسیع اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی وجہ سے ان زمینوں کی قدر میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے، تاہم زیادہ تر سرکاری ادارے ان جائیدادوں کا بہتر انتظام نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے اتھارٹی کے قیام کی حمایت کی۔سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت ملک بھر میں وسیع رقبے پر مشتمل تجارتی، شہری اور دیہی غیر منقولہ جائیداد کی مالک ہے جس میں زمین اور اس پر تعمیر شدہ عمارتیں شامل ہیں۔ یہ جائیدادیں وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور ان کے زیرِ انتظام تنظیموں کی ملکیت، استعمال اور انتظام میں ہیں۔ تاہم حکومتی ہدایات کے باوجود زیادہ تر سرکاری املاک معاشی طور پر منافع بخش طریقے سے استعمال نہیں ہو رہیں اور وہ تجاوزات کا شکار بھی ہیں۔