انصار عباسی
اسلام آباد۔۔۔۔ حکومت کی جانب سے دسمبر 2027ء کے بعد پاکستان کو سود سے پاک مالیاتی نظام میں منتقل کرنے کی حکمت عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئینی ترمیم کے تحت یکم جنوری 2028ء سے سود کے خاتمے کی لازمی شرط کے باوجود ملک پر کھربوں روپے کے سودی واجبات کی ادائیگیاں اس تاریخ کے بعد بھی جاری رہیں گی۔ وفاقی بجٹ کا تقریباً نصف حصہ سود کی ادائیگی پر مشتمل ہے، اور مقامی قرضوں پر بھی سود کی ادائیگی برقرار رہے گی۔ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ دسمبر 2027ء کے بعد حکومت کی جانب سے نئے قرضے حاصل کرنے کے عمل کو بتدریج شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی ذرائع کی طرف منتقل کیا جائے گا، تاہم اس تاریخ سے پہلے لیے گئے روایتی قرضے اپنے اصل سودی معاہدوں کے مطابق ہی ادا کیے جاتے رہیں گے۔ ذرائع کے مطابق، بیرونی قرضوں پر حکومت کا اختیار نہیں، جبکہ مقامی بینک اسلامی بینکاری میں تبدیل ہونے کے باوجود حکومت سے پرانے سودی قرضوں پر بھاری سود وصول کرتے رہیں گے۔ صرف مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں ہی حکومت نے سود کی ادائیگی کیلئے 8؍ ٹریلین روپے سے زائد مختص کیے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سود کی مجموعی ادائیگیوں کا 70؍ فیصد سے بھی زیادہ حصہ مقامی بینکوں کو جاتا ہے۔ سرکاری حکمت عملی کے مطابق، 31؍ دسمبر 2027ء تک موجود تمام روایتی سرکاری قرضے ان کی مقررہ مدت پوری ہونے پر ہی شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی ذرائع سے تبدیل کیے جائیں گے۔ اُس وقت تک حکومت ان قرضوں کی ادائیگی اصل معاہدوں کی شرائط کے مطابق جاری رکھے گی۔ اکتوبر 2024ء میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 38(f) میں ترمیم کرتے ہوئے یکم جنوری 2028ء تک ملک کے مالیاتی نظام سے سود کے مکمل خاتمے کو آئینی تقاضا بنایا گیا ہے، تاکہ ملک کو مکمل طور پر شریعت سے ہم آہنگ معیشت کی طرف منتقل کیا جا سکے۔ اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ وہ اپنے تمام معاہداتی وعدوں کی پابند رہے گی، لیکن ذرائع کہتے ہیں کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد بالخصوص مقامی قرضوں پر سود کی ادائیگی کا معاملہ آئین سے ممکنہ تصادم کے باعث عدالتی تشریح کیلئے بھی عدالتوں میں لے جایا جا سکتا ہے۔ سرکاری حکمت عملی کے مطابق، مقامی بینکوں کو دسمبر 2027ء کے بعد اسلامی بینکاری میں تبدیل ہونا ہوگا، لیکن وزارت خزانہ کی پالیسی ان بینکوں کے 2028ء سے پہلے کے سودی معاملات اور مفادات کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، اگرچہ آئندہ حکومت کی جانب سے نئے قرضے لینے کے عمل کو سود سے پاک مالیاتی ذرائع پر منتقل کرنے کا واضح روڈ میپ موجود ہے، تاہم موجودہ قرضوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا اور ان کی مدت پوری ہونے تک سود کی ادائیگی جاری رہے گی، جس کے بعد ہی انہیں شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی ذرائع سے تبدیل کیا جائے گا۔
مزید خبریں
-
کراچی وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹررانا ثناء اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے شہدا سے متعلق...
-
اسلام آباد ایف بی آر ان لینڈریونیو سروس گریڈ 19 سے 22 کے 52افسران کے تبادلے ،سعدیہ صدف گیلانی ممبر ، ایف بی آر...
-
لاہور دہشت گردی کے حساس مقدمات کے محفوظ ٹرائلز کا بل قائمہ کمیٹی سے منظور۔ ہائی رسک کیسز میں ججوں،...
-
پشاور تحقیقاتی کمیٹی نے ہری پور یونیورسٹی میں فیکلٹی بھرتیوں کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوںاور سلیکشن بورڈ کی...
-
کراچی ریلیٹی شو ”پاکستان گاٹ ٹیلنٹ“ کا آج ”جیو“ پر آغاز ،پکسل انٹرٹینمنٹ اور ”جیو ٹی وی“کی نئی پیشکش،...
-
اسلام آباد وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ کاروبار میں آسانی کیلئے حکومت کے پالیسی اقدامات اور...
-
کراچی کراچی پورٹ نے مالی سال 2025-26میں اپنی 138سالہ تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کرلیا۔ ایک سال کے دوران کراچی پورٹ...
-
اسلام آ باد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سرکاری افسران کی گریڈ 20میں ترقی کیلئے لازمی سینئر مینجمنٹ کورس کیلئے نامزد...