چھوٹے کاروبار کیلئے مالیاتی ٹاسک فورس، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی اور درپیش مسائل کے حل کیلئے قابل عمل تجاویز تیار کریگی، وزیرخزانہ

08 جولائی ، 2026

کراچی (نمائندہ جنگ) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ چھوٹے کاروبار کیلئے مالیاتی ٹاسک فورس بنی گی جو نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی اور درپیش مسائل کے حل کیلئے قابل عمل تجاویز تیار کریگی، مزید 28سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائیگی، حکومت جلد درمیانی مدت کی ٹیکس حکمت عملی متعارف کرائے گی، معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، ٹیکس نظام میں انسانی مداخلت ختم کر رہے ہیں، ہر فرد کو استعداد کے مطابق دینا ہوگا،حکومت مالیاتی شعبے میں اصلاحات اور پائیدار معاشی ترقی کے وسیع تر ایجنڈے پر عمل پیرا ہےایس ایم ایز، تعمیراتی شعبے اور زرعی مشینری کی مراعات برقرار رہیں گی، ایران کے ساتھ تجارت میں مثبت پیش رفت ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے زیر اہتمام پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،وزیر خزانہ نے اس موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سربراہی میں ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا۔ اس ٹاسک فورس میں بینکاری شعبے اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہونگے، جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کیلئے قرضوں تک رسائی بڑھانے اور اس شعبے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے قابلِ عمل تجاویز مرتب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال بڑی صنعتوں کی بہتر کارکردگی کے باعث مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ ریکارڈ ترسیلاتِ زر، زرمبادلہ کے بہتر ذخائر اور مالی خسارے میں کمی نے ملکی معیشت کو استحکام فراہم کیا۔ مالی سال 2025-26 کے دوران ترسیلاتِ زر کا حجم 41 سے 42 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ ویلیو ایڈڈ برآمدات نے بھی معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور ملک نے یورو بانڈز سمیت عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 50 کروڑ روپے تک سالانہ کاروبار کرنے والے اداروں پر سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، ایڈوانس ٹیکس اور بعض دیگر محصولات میں بھی کمی کی گئی ہے، جبکہ زرعی مشینری پر تمام درآمدی ڈیوٹیز صفر کر دی گئی ہیں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد ایران کے ساتھ تجارتی روابط بحال کرنے کی کوششیں ابتدائی مرحلے میں ہیں اور حکومت کو امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مثبت پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کا فروغ حکومت کی اہم ترجیح ہے، جبکہ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق مشاورت بھی جاری ہے۔اس موقع پر پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے کہا کہ ملکی بینکاری شعبے نے گزشتہ ایک سال کے دوران کئی اہم سنگ میل عبور کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بینکاری صنعت سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس قومی خزانے میں جمع کراتی ہے، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران زرعی قرضوں میں 39 فیصد، ہاؤسنگ فنانس میں 90 فیصد، ایس ایم ایز کے قرض لینے والوں کی تعداد میں 111 فیصد اور اس شعبے کو فراہم کیے گئے قرضوں کی مالیت میں 80 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔