دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت امریکا میں جرائم کی بلند شرح ،بندوقیں آبادی سے زیادہ

08 جولائی ، 2026

کراچی (رفیق مانگٹ) دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور عسکری طاقت امریکا ایک نمایاں تضاد کا شکار ہے جہاں ترقی اور خوشحالی کے ساتھ جرائم کی نسبتاً بلند شرح بھی موجود ہے۔ امریکا میں بندوقوں کی تعداد آبادی سے بھی زیادہ ہے، جس کے باعث فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں شکاگو کے اعدادوشمار اہم ہیں، جہاں 28 فروری 2026 سے 5 جولائی 2026 کے دوران 523 افراد کو گولی ماری گئی جن میں سے 46 ہلاک اور 477 زخمی ہوئے۔گن وایلنس آرکائیو کے مطابق 5 جولائی 2026 تک 6391 افراد ہلاک اور 11703 زخمی ہوئے، جبکہ 225 اجتماعی فائرنگ کے واقعات میں 267 ہلاکتیں اور 868 زخمی رپورٹ ہوئے۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابق امریکا میں مجموعی طور پر تقریباً 20 لاکھ افراد مختلف جیلوں اور حراستی مراکز میں قید ہیں جبکہ فی کس قید کی شرح 580 افراد فی ایک لاکھ آبادی تک پہنچ چکی ہے‘ریاستی جیلوں میں قیدیوں کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے، جہاں تقریباً 10 لاکھ 98 ہزار افراد قید ہیں۔ ان میں سے 6 لاکھ 84 ہزار افراد پرتشدد جرائم میں ملوث ہیں، جن میں ایک لاکھ 66 ہزار قتل، ایک لاکھ 72 ہزار جنسی زیادتی، ایک لاکھ 22 ہزار ڈکیتی اور ایک لاکھ 59 ہزار حملوں کے مقدمات شامل ہیں، جبکہ ایک لاکھ 38 ہزار املاک سے متعلق اور ایک لاکھ 39 ہزار منشیات کے جرائم میں قید ہیں، اور ایک لاکھ 30 ہزار پبلک آرڈر کیسز کا حصہ ہیں۔مقامی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد تقریباً 5 لاکھ 46 ہزار ہے، جن میں سے 4 لاکھ 26 ہزار افراد ابھی سزا کے منتظر ہیں، جبکہ ایک لاکھ 20 ہزار سزا یافتہ ہیں۔ ان جیلوں میں منشیات کے ایک لاکھ 8 ہزار، املاک کے ایک لاکھ 6 ہزار اور پبلک آرڈر کے 75 ہزار کیسز نمایاں ہیں، جبکہ پرتشدد جرائم میں قید افراد کی تعداد 26 ہزار ہے۔وفاقی جیلوں اور دیگر حراستی نظام میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 1 ہزار افراد قید ہیں، جن میں ایک لاکھ 45 ہزار بیورو آف پرزنز اور 56 ہزار یو ایس مارشلز کی تحویل میں ہیں۔ یہاں منشیات کے جرائم سب سے زیادہ ہیں، جہاں 66 ہزار افراد قید ہیں، جبکہ 63 ہزار پبلک آرڈر، 11 ہزار امیگریشن اور 11 ہزار پرتشدد جرائم سے متعلق کیسز شامل ہیں۔ معروف جریدے فارن افیئر میں شائع ایک تجزیاتی رپورٹ میں امریکی نظامِ انصاف کو غیر معمولی اور تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق امریکا اپنے شہریوں کو کینیڈا اور مغربی یورپ کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ قید کرتا ہے، جبکہ 73 فیصد مجرموں کو قید کی سزا دی جاتی ہے، جو کہ جرمنی میں صرف 6 فیصد ہے۔تاہم، حالیہ برسوں میں جرائم کی مجموعی شرح میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 2020 سے قتل کی وارداتوں میں تقریباً 38 فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ صرف گزشتہ ایک سال میں 20 فیصد کمی سامنے آئی، خاص طور پر 52 بڑے شہروں میں۔اجتماعی فائرنگ کے واقعات بھی کم ہوئے ہیں، جہاں 2025 میں 14 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2024 میں 30 اور 2023 میں 39 تھے، جو گزشتہ دو دہائیوں کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔