26ویں آئینی ترمیم کے باوجود، 2027 کے بعد بھی کھربوں کی سودی ادائیگیاں جاری رہیں گی

08 جولائی ، 2026
انصار عباسی
اسلام آباد:حکومت کی جانب سے دسمبر 2027ء کے بعد پاکستان کو سود سے پاک مالیاتی نظام میں منتقل کرنے کی حکمت عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئینی ترمیم کے تحت یکم جنوری 2028ء سے سود کے خاتمے کی لازمی شرط کے باوجود ملک پر کھربوں روپے کے سودی واجبات کی ادائیگیاں اس تاریخ کے بعد بھی جاری رہیں گی۔ وفاقی بجٹ کا تقریباً نصف حصہ سود کی ادائیگی پر مشتمل ہے، اور مقامی قرضوں پر بھی سود کی ادائیگی برقرار رہے گی۔ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ دسمبر 2027ء کے بعد حکومت کی جانب سے نئے قرضے حاصل کرنے کے عمل کو بتدریج شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی ذرائع کی طرف منتقل کیا جائے گا، تاہم اس تاریخ سے پہلے لیے گئے روایتی قرضے اپنے اصل سودی معاہدوں کے مطابق ہی ادا کیے جاتے رہیں گے۔ ذرائع کے مطابق، بیرونی قرضوں پر حکومت کا اختیار نہیں، جبکہ مقامی بینک اسلامی بینکاری میں تبدیل ہونے کے باوجود حکومت سے پرانے سودی قرضوں پر بھاری سود وصول کرتے رہیں گے۔ صرف مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں ہی حکومت نے سود کی ادائیگی کیلئے 8؍ ٹریلین روپے سے زائد مختص کیے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سود کی مجموعی ادائیگیوں کا 70؍ فیصد سے بھی زیادہ حصہ مقامی بینکوں کو جاتا ہے۔ سرکاری حکمت عملی کے مطابق، 31؍ دسمبر 2027ء تک موجود تمام روایتی سرکاری قرضے ان کی مقررہ مدت پوری ہونے پر ہی شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی ذرائع سے تبدیل کیے جائیں گے۔