زیارت، پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید، جوابی کارروائیوں میں 21 دہشت گرد ہلاک، مظاہرین کا قومی شاہراہ پر دھرنا،بلوچستان کا KPK اور پنجاب سے رابطہ منقطع

08 جولائی ، 2026

کوئٹہ ( اسٹاف رپورٹر)سیکورٹی فورسز اور پولیس کا زیارت اور دالبندین میں فتنہ الخوراج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف آپریشنز کے دوران 21دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ۔ بھاری تعداد میں اسلحہ گولہ بارود قبضے میں لے لیا گیا ۔ آپریشن میں دہشتگردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے 9پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق زیارت کے علاقےمانگی فیز تھری میں پولیس اورفتنہ الخوارج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا دہشت گردوں نے 9اہلکاروں کو شہید کر دیا جبکہ پولیس کی جوابی کارروائی میں 15دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ فورسز نے لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا۔ ادھر دالبندین کے علاقے لاگاپ میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان کارروائی میں چھ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔فورسز نےجائے وقوعہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کر لیا گیا۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ درایں اثنا معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے کہا ہے کہ زیارت میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف ایف سی، بلوچستان پولیس، سی ٹی ڈی، ایس او ڈبلیو اور اے ٹی ایف نے مشترکہ کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا ہے۔ فتنہ الخوارج کے حملے میں بلوچستان پولیس کے 9 افسران و اہلکار شہید ہوئے۔، 15 دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں۔ ریاست پوری قوت سے جواب دے رہی ہے۔زیارت میں شہید ہونے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ان کے خون کا حساب لیا جائے گا، بلوچستان کے امن، استحکام اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ شہداء میں ایس ایچ او تھانہ منگی، ایس ایچ او تھانہ کاوس، اے ٹی ایف انچارج ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ سمیت دیگر اہلکار شامل ہیں،ڈی ایس پی غلام سرور سمیت آٹھ پولیس اہلکار دشوار گزار پہاڑی راستوں سے بحفاظت تھانہ کاچ پہنچ گئے، کانسٹیبل رضوان کو بحفاظت بازیاب کر لیا گیا،شہداء کی میتیں قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال زیارت منتقل کی جا رہی ہیں،بلوچستان حکومت شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے، دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نےکہا ہے کہ زیارت میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب کلیئرنس آپریشن نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچایا، کلیئرنس آپریشن میں 15 دہشتگرد جنہم واصل ھوئےفتنہ الخوارج سے بہادری سے لڑتے ھوئے 9 پولیس کے افسران و جوانوں نے شہادت جیسا عظیم رتبہ پایا۔ ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک بلوچستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔زیارت میں شہید ہونے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کی قربانی قوم کا سرمایہ ہے، ان کے لہو کا حساب ضرور لیا جائے گا۔ درایں اثنا ءزیارت میں پولیس اہلکاروں کے اغواء اور شہادتوں کے خلاف مقامی افراد نےقومی شاہراہ این 50 پر دھرنا دیکر روڈ بلاک کردیا، بلوچستان کا پنجاب اور خیبر پختونخواء سے زمینی راستہ منقطع ہوگیا ۔ گزشتہ روز زیارت سے پولیس کے 35اہلکاروں کے اغواء اور 9کو شہید کرنے کے واقعہ کے خلاف مقامی افراد نے زیارت کراس کے مقام پر این 50قومی شاہراہ کو دھرنا دیکر بند کردیا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مغویو ںکو بازیاب اور شہداء کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ دوسری جانب شاہراہ کی بندش کے باعث دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔