وفاقی کابینہ نے حج پالیسی اور پلان برائے2027-2030 کی منظوری دیدی

08 جولائی ، 2026

اسلام آباد (رانا غلام قادر ) وفاقی کابینہ نے حج پالیسی اور پلان برائے 2027-2030 کی منظوری دیدی ،پالیسی کے تحت حج کے خواہشمند افراد سالانہ رجسٹریشنز کے بجائے 2030 تک کسی بھی سال کیلئے اپنی ضرورت کے مطابق بلاتعطل حج کی رجسٹریشن کروا سکیں گے،مجوزہ پالیسی کے نفاذ کیلئے SOPs اور دیگر ضوابط بنائے جائینگے، تمام تر نظام کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے ، حج پالیسی کی منظوری منگل کے روزوزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں دی گئی،وفاقی کابینہ کو حج پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نئی حج پالیسی گزشتہ ایک سالہ حج پالیسیوں کے برعکس پہلی چار سالہ حج پالیسی اور پلان پر مشتمل ہے، اس حج پالیسی کے تحت طویل مدتی پلاننگ، آپریشنز میں بہتری اور حاجیوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی،مجوزہ پالیسی کے نفاذ کیلئے SOPs اور دیگر ضوابط بنائے جائینگے، پالیسی کو سعودی قوانین اور ضوابط سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اس میں ضرورت کے مطابق ترامیم کی جا سکیں گی،مزید بتایا گیا کہ پالیسی کے تحت حج کے خواہشمند افراد سالانہ رجسٹریشنز کی بجائے 2030 تک کسی بھی سال کیلئے اپنی ضرورت کے مطابق بلاتعطل حج کی رجسٹریشن کروا سکیں گے،اسکے نتیجے میں ترجیحی ویٹنگ لسٹ مرتب کی جائے گی،شرعی اصولوں کے مطابق سیونگ اسکیم بھی متعارف کروائی جا رہی ہے جسکے تحت حج کے خواہاں لوگ مستقبل میں حج کیلئے سیونگ اسیکم سے مستفید ہو سکیں گے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حج کے تمام تر نظام کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے جس میں ادائیگیاں بھی ڈیجیٹل نظام سے ہونگیں، اسکے علاوہ شکایات کا ڈیجیٹل نظام اور ڈیجیٹل نگرانی ہوگی، پالیسی کے تحت سرکاری اور پرائیوٹ حج کا کوٹہ مختص کیا گیا ،لانگ اور شارٹ حج پروگرام متعارف کروائے جار ہے ہیں جبکہ حجاج کرام کی ضروری تربیت اور تکافل و ہنگامی ریسپانس بھی پالیسی کا حصہ ہیں۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ معاونین حج کی تقرری ایک شفاف نظام اور خالصتاً میرٹ پر جائے۔ مزید برآں پرائیوٹ و سرکاری حج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے۔ وفاقی کابینہ نے شہریوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات کو یقینی بنانے کیلئے اسلام آباد میں موجود آئیسولیشن ہاسپٹل اینڈ انفیکشئس ٹریٹمنٹ سینٹر (IHITC) اور ریجنل بلڈ سینٹر (RBC) کی سروسز کی آؤٹ سورسنگ کی پالیسی منظوری دے دی ، وفاقی کابینہ کو وزیرِ ریلوے کی جانب سے پاکستان ریلوے کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو وزیر ریلوے حنیف عبا سی نے بتایا کہ ریلوے کی آمدن 2024-25 میں 95 ارب بڑھ کر گزشتہ مالی سال 2025-2026 میں 115 ارب روپے کو عبور کر گئی جو کہ 24.19 فیصد اضافہ ہے۔ فریٹ آمدن میں 8 ارب سے زائد، دیگر آمدن میں 7 ارب سے زائد، پراپرٹی و لینڈ آمدن میں 6 ارب سے زائد اور مسافروں کی آمدو رفت سے آمدن میں 3.37 فیصد کا اضافہ ہوا۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (CCLC) کے 19 مئی 2026 اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے 2 جولائی 2026 کومنعقدہ اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔قبل ازیں اجلاس کے آ غاز میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ کو بتایا کہ انہوں نے تہران میں گزشتہ جمعہ کو شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی، حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دورہ ترکیہ کے دوران نمایاں کاروباری گروپوں سے ملاقاتیں کیں، ترک کمپنیوں کو توانائی، کان کنی و معدنیات، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی دعوت دی،وزیراعظم نے بتایا کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ملاقات کیلئے مدعو کیا، ان سے بات چیت بہت مفید اور تعمیری رہی، آنے والے وقت میں ہمارے تعلقات مزید مستحکم اور مضبوط ہوں گے۔ قبل ازیں وزیراعظم نے اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے آفیسر گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ،انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر و استقامت عطا فرمائے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملزم گرفتار ہوچکا، اسے قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سزا دلوائی جائے گی۔ وزیراعظم نے بلوچستان میں 15 خوارج کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے دعا اور فاتحہ خوانی کی گئی ۔