حکومت کا پٹرولیم سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا عندیہ

08 جولائی ، 2026

اسلام آباد( عاطف شیرازی) مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحا ل سے پٹرولیم قیمتوں میں آنے والے اتار چڑھائو کے باعث حکومت نے پٹرولیم سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا عندیہ دے دیا، وفاقی وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پٹرولیم کو آگاہ کیا ہے کہ کہ حکومت پیٹرولیم سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرکے قیمتوں کے تعین سے اپنا کردار کم کرنا چاہتی ہے، جبکہ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی منظوری کے آخری مراحل میں ہے اور توقع ہے کہ 15 جولائی کو اسے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سے منظوری مل جائے گی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس چئیرمین کمیٹی سید مصطفیٰ محمود کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ، اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ ہمیں تیار پٹرولیم مصنوعات چاہئیں جوعالمی مارکیٹ سے نہیں ملتی ہیں ہماری مصنوعات پرٹیکسز کم ہیں پٹرولیم مصنوعات کو ریفائن کرنےپر خرچہ آتا ہے حکومت پورے سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرکے قیمتوں کےمعاملے سے نکلنا چاہتی ہے ، حکومت سپلائی چین کو مانیٹر کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 70 فیصد پیٹرول اور 33 فیصد ڈیزل درآمد کرتا ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی نیچے آ چکی ہیں، تاہم ریفائن شدہ مصنوعات اب بھی مہنگی ہیں کیونکہ پریمیم، انشورنس اور بحری کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔وزیر مملکت نے بتایا کہ اگر پیٹرولیم لیوی ختم کر دی جائے تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم اس سے حکومتی آمدن کے لیے متبادل انتظام کرنا ہوگا،علی پرویز ملک نے کہا کہ حالیہ جنگی صورتحال کے دوران محدود وسائل اور ذخائر کے باوجود ملک میں ایندھن کی سپلائی برقرار رکھی گئی اور کسی پمپ پر قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سال کے آخر تک گردشی قرضے میں مزید اضافہ نہیں ہوگا، آئی ایم ایف کے ساتھ بھی اس حوالے سے بات چیت جاری ہے،اجلاس کے دوران ایل پی جی کی قیمتوں پر عملدرآمد کا معاملہ بھی زیر بحث آیا،قائمہ کمیٹی نے اوگرا حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرکے تفصیلی بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا۔