دبئی سات درجے تنزلی کے بعد دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں 14ویں نمبر پر پہنچ گیا

08 جولائی ، 2026

کراچی (رفیق مانگٹ) دبئی سات درجے تنزلی کے بعد دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں 14ویں نمبر پر پہنچ گیا، دیگر شہروں میں مہنگائی اور کرنسی کی مضبوطی نے دبئی کی درجہ بندی متاثر کی، مقامی قیمتیں برقرار رہیں، سنگاپور مسلسل چوتھے سال دنیا کا مہنگا ترین شہر، زیورخ دوسرے اور موناکو تیسرے نمبر پر، یورپی کرنسیوں کی مضبوطی فیصلہ کن ثابت، ہانگ کانگ چوتھے اور لندن پانچویں نمبر پر، برطانوی پاؤنڈ کی کمزوری اثرانداز، سڈنی چھ درجے بہتری کے ساتھ آٹھویں نمبر پر، عالمی سطح پر لگژری اخراجات میں 10.2 فیصد اضافہ، زیورات 16.4 فیصد اور گھڑیاں 15.5 فیصد مہنگی، اطلاعات کے مطابق دبئی عالمی سطح پر امیر ترین افراد کے لیے مہنگے ترین شہروں کی فہرست میں سات درجے تنزلی کے بعد 14ویں نمبر پر آ گیا ہے، یہ انکشاف گلوبل ویلتھ اینڈ لائف اسٹائل رپورٹ میں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمی دبئی میں قیمتوں میں کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ دیگر شہروں میں تیزی سے مہنگائی اور کرنسی کی مضبوطی کے باعث ہوئی ہے۔ اور کرنسی کی مضبوطی ہے۔ کئی بڑے شہروں کی کرنسیاں، جیسے سوئس فرانک اور یورو، امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوئیں، جس کے باعث وہ شہر فہرست میں اوپر چلے گئے۔ دوسری جانب دبئی کا درہم امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک ہے، اور ڈالر کی کمزوری نے دبئی کو ڈالر کی بنیاد پر بننے والی درجہ بندی میں نسبتاً سستا ظاہر کیا- رپورٹ کے مطابق سنگاپور مسلسل چوتھے سال دنیا کا مہنگا ترین شہر برقرار رہا اور بدستور پہلے نمبر پر ہے، جس کی بڑی وجہ سنگاپور ڈالر کی مضبوطی اور جائیداد و گاڑیوں کی بلند قیمتیں ہیں۔ زیورخ تین درجے بہتری کے ساتھ دوسرے نمبر پر پہنچ گیا، جبکہ موناکو پہلی بار ٹاپ تھری میں شامل ہو کر تیسرے نمبر پر آ گیا۔ ہانگ کانگ ایک درجہ تنزلی کے بعد چوتھے نمبر پر چلا گیا، جبکہ لندن گزشتہ سال ٹاپ کے قریب ہونے کے باوجود گر کر پانچویں نمبر پر آ گیا۔ سڈنی نمایاں بہتری کے ساتھ چھ درجے اوپر جا کر آٹھویں نمبر پر پہنچ گیا، جس کی وجہ آسٹریلوی ڈالر کی مضبوطی اور درآمدی اشیاء کی بلند لاگت بتائی گئی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ تائے پی 13ویں نمبر پر رہا، جو دبئی سے ایک درجہ اوپر ہے، جبکہ بارسلونا 15ویں نمبر پر آ گیا، جو دبئی سے ایک درجہ نیچے ہے۔ ماہرین کے مطابق دبئی کی درجہ بندی میں کمی کی بڑی وجہ درہم کا امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک ہونا ہے، جبکہ امریکی ڈالر گزشتہ سال دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور ہوا، جس کے باعث ڈالر میں بننے والے انڈیکس میں دبئی نسبتاً سستا دکھائی دیا۔ تاہم مقامی سطح پر رہنے والوں کے لیے اخراجات میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر لگژری طرز زندگی کے اخراجات میں اوسطاً 10.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ لگژری اشیاء کی قیمتیں 12.3 فیصد تک بڑھیں۔ زیورات کی قیمتوں میں 16.4 فیصد اور گھڑیوں کی قیمتوں میں 15.5 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق دنیا بھر کے 82 سے 95 فیصد امیر افراد جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم اس کے باوجود لگژری اخراجات اور صحت و فلاح و بہبود پر سرمایہ کاری میں اضافہ جاری ہے۔ مشرق وسطیٰ کے سرمایہ کاروں میں خاص طور پر جائیداد کو سب سے پسندیدہ سرمایہ کاری قرار دیا گیا، جو 23 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہی۔