ریکوڈک معدنیات کی ترسیل 278.6:ارب سےریلوے ٹریک اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ

08 جولائی ، 2026

اسلام آباد (مہتاب حیدر) حکومت نے ریکوڈک سے معدنیات کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان ریلوے کی مین لائن-3 (ایم ایل-3) کے روہڑی، سبی، کوئٹہ تا کوہِ تفتان سیکشن کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس پر 278 ارب 61 کروڑ 85 لاکھ 91 ہزار روپے لاگت آئے گی۔ 996 کلومیٹر طویل اس منصوبے کی تکمیل 2033 تک متوقع ہے۔سرکاری دستاویزات اور منصوبے کے پی سی-1 کے مطابق منصوبے کی مالی معاونت ریکوڈک منرل کمپنی (RDMC) کی جانب سے برج فنانسنگ اور حکومت پاکستان کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے ذریعے کی جائے گی۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ RDMC کی جانب سے فراہم کی جانے والی 390 ملین ڈالر کی برج فنانسنگ حکومت پاکستان جون 2028 تک یک مشت (Bullet Payment) واپس کرے گی، جس کے لیے وزارتِ خزانہ کو مطلوبہ مالی وسائل کا انتظام کرنا ہوگا۔منصوبہ دو مرحلوں اور چار پیکیجز میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 243 کلومیٹر روہڑی تا سبی سیکشن اور 522 کلومیٹر اسپیزند تا عالم ریگ سیکشن کی اپ گریڈیشن کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں 141 کلومیٹر سبی تا کوئٹہ اور 90 کلومیٹر عالم ریگ تا تفتان سیکشن کو بہتر بنایا جائے گا۔پی سی-1 کے مطابق ریکوڈک کی معدنیات کی ترسیل کے لیے ایم ایل-3 کی اپ گریڈیشن ہی واحد پائیدار حل ہے، کیونکہ حکومت پاکستان پہلے ہی ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے بیرک گولڈ/ریکوڈک منرل کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر چکی ہے۔منصوبے کے تحت ٹریک کی بہتری سے ریلوے آپریشنز میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے (Derailment) کے واقعات میں کمی، سفری وقت میں کمی اور ایندھن کی بچت ممکن ہوگی۔منصوبے میں روہڑی تا سبی سیکشن پر 195 کلومیٹر ٹریک کی مکمل تجدید، جبکہ کوئٹہ، اسپیزند تا کوہِ تفتان سیکشن پر 636 کلومیٹر ٹریک کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ اس کے علاوہ احمدوال تا کوہِ تفتان کے 457.5 کلومیٹر حصے میں مضبوط پشتوں (Embankments) اور پلوں کی تعمیر بھی کی جائے گی۔ریلوے آپریشن کو مؤثر بنانے کے لیے اسپیزند اور عالم ریگ کے درمیان 11 نئے ریلوے اسٹیشن بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں بنیادی اور انتہائی اہم انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں دیگر ترجیحی کام مکمل ہوں گے۔ منصوبے کی لاگت میں فرنٹیئر کور (FC) کی جانب سے فراہم کی جانے والی سیکیورٹی کے اخراجات بھی شامل ہیں۔منصوبے کے اہم مقاصد میں کوئٹہ تا تفتان مکمل ریلوے ٹریک کی تجدید، طویل بلاک سیکشنز کے درمیان نئے اسٹیشنوں کی تعمیر اور جدید مواصلاتی نظام کی تنصیب شامل ہے۔تاہم، منصوبہ بندی کمیشن نے اپنی جانچ پڑتال میں متعدد تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق اگرچہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد پٹڑی سے اترنے کے واقعات اور ان سے ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی آئے گی، سفری وقت کم ہوگا اور ریلوے لائن کی استعداد میں اضافہ ہوگا، لیکن منصوبے کے مالی فوائد کو رقم کی صورت میں ظاہر نہیں کیا گیا اور نہ ہی لاگت و فائدہ (Cost-Benefit Analysis) پیش کیا گیا ہے۔