لاہور (آصف محمود بٹ) پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے مالی سال 2025-26 کے دوران اپنی تاریخ کی نمایاں ترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز کی وصولیوں میں 39 فیصد ریکارڈ اضافہ کیا ہے، جبکہ ادارہ جاتی اصلاحات، ٹیکس نیٹ میں توسیع، انفورسمنٹ کو مؤثر بنانے، ٹیکس انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور پورے صوبے میں اپنے انتظامی دائرہ اختیار کو وسعت دینے کے ذریعے محصولات میں اربوں روپے کا غیر معمولی اضافہ حاصل کیا گیا۔ ادارہ جاتی اصلاحات، صوبہ بھر میں دائرہ اختیار کی توسیع اور مؤثر انفورسمنٹ سے محصولات اربوں روپے ،ٹیکس دہندگان کی تعداد 76 فیصد بڑھ گئی۔رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان ایک لاکھ 75 ہزار 418 تک پہنچ گئے، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل کمپلائنس اور جدید آڈٹ نظام نے ٹیکس انتظامیہ کو نئی سمت دے دی۔ “جنگ” کو حاصل دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025-26 ادارے کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا، جس کے دوران ٹیکس نیٹ میں نمایاں توسیع، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی کمپلائنس، ساختی اصلاحات اور صوبہ بھر میں مربوط انفورسمنٹ کے ذریعے نہ صرف ریونیو میں مسلسل اضافہ ممکن بنایا گیا بلکہ ٹیکس دہندگان کی جانب سے رضاکارانہ تعمیل میں بھی نمایاں بہتری آئی۔ دساویزات کے مطابق مالی سال کے دوران سب سے اہم پیش رفت پنجاب ریونیو اتھارٹی کے دائرہ اختیار کو 19 اضلاع سے بڑھا کر پنجاب کے تمام 36 اضلاع تک توسیع دینا تھی، جس کے نتیجے میں پورے صوبے میں پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز کے نفاذ اور وصولی کا یکساں نظام قائم کیا گیا۔ 26 اضلاع میں مکمل اختیارات کے حامل فیلڈ دفاتر قائم کیے گئے، جبکہ باقی 10 اضلاع کا انتظام باقاعدہ نوٹیفائیڈ انتظامی احکامات کے ذریعے ملحقہ اضلاع کے انفورسمنٹ افسران کے سپرد کیا گیا۔پی آر اے کے مطابق اس اقدام سے ان علاقوں میں موجود وہ دیرینہ انتظامی خلا ختم ہو گیا جن کی وجہ سے کم نگرانی والے اضلاع میں خدمات فراہم کرنے والے متعدد ادارے اور کاروبار صوبائی ٹیکس نیٹ سے باہر رہتے تھے، جس سے پنجاب بھر میں پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ پر مؤثر عمل درآمد ممکن بنایا گیا۔ ادارے نے اپنے توسیع شدہ دائرہ اختیار کو مؤثر بنانے کے لیے افرادی قوت میں بھی نمایاں اضافہ کیا۔ مالی سال کے دوران 80 انفورسمنٹ اینڈ آڈٹ افسران بھرتی کیے گئے، جبکہ مزید 200 افسران کی بھرتی پنجاب پبلک سروس کمیشن (پی پی ایس سی) کے ذریعے عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ فیلڈ فارمیشنز کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور انفورسمنٹ کی استعداد میں اضافہ ہو۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکس نیٹ میں بھی نمایاں وسعت آئی اور رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 18 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 48 ہزار 652 سے بڑھ کر ایک لاکھ 75 ہزار 418 ہو گئی۔ یہ اضافہ وسیع پیمانے پر رجسٹریشن مہمات، مختلف شعبوں میں سرویز اور بینکنگ چینلز، نادرا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے حاصل ہونے والے تھرڈ پارٹی ڈیٹا کی جدید کراس میچنگ کے ذریعے ممکن بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012 کے تحت رجسٹریشن کے اہل مگر غیر رجسٹرڈ سروس فراہم کنندگان کی نشاندہی کی گئی۔ ٹیکس دہندگان کی تعمیل میں بھی غیر معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ فعال ادائیگی کرنے والے ٹیکس دہندگان کی تعداد 76 فیصد اضافے کے ساتھ 9 ہزار 76 سے بڑھ کر 15 ہزار 978 ہو گئی۔ پی آر اے کے مطابق یہ صرف رجسٹریشن میں اضافہ نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کے معیار میں بنیادی بہتری کا مظہر ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں غیر فعال، نان فائلر اور عدم تعمیل کرنے والے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کو باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے والوں میں تبدیل کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز کی مجموعی وصولیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ تقریباً تمام بڑے سروس سیکٹرز میں دو ہندسوں پر مشتمل نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی۔ رائیڈ ہیلنگ سروسز سے وصولیوں میں 43 فیصد، ریسٹورنٹس اور ہوٹلز سے 41 فیصد، کمیشن ایجنٹس سے 36 فیصد، ودہولڈنگ ایجنٹس سے 28 فیصد، بینکنگ، نان بینکنگ اور انشورنس سیکٹر سے 27 فیصد، انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز سے 27 فیصد، ٹیلی کمیونی کیشن سروسز سے 26 فیصد، ٹرانسپورٹیشن سروسز سے 23 فیصد، کوریئر سروسز سے 18 فیصد جبکہ تعمیراتی شعبے سے 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پی آر اے کے مطابق محصولات میں یہ اضافہ کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہا بلکہ ٹیکس نیٹ میں توسیع، مؤثر انفورسمنٹ، بہتر کمپلائنس اور جدید ڈیسک بیسڈ و ٹیکنالوجی سے معاونت یافتہ آڈٹ سسٹم کے مشترکہ نتائج کی بدولت حاصل ہوا۔ مالی سال کے دوران پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں مربوط انفورسمنٹ کارروائیاں کی گئیں، جن میں کاروباری اداروں کی فزیکل انسپکشن، مسلسل نادہندگان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا، عدم تعمیل کرنے والے کاروباری مراکز کو سیل کرنا اور کم ٹیکس ادا کرنے یا ٹیکس چوری کے مقدمات میں ریکوری کارروائیاں شامل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں واجب الادا اور چوری شدہ سیلز ٹیکس کی مد میں کئی ارب روپے کی وصولیاں ممکن ہوئیں، جبکہ زیادہ خطرے والے شعبوں میں ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کے رجحان کی مؤثر حوصلہ شکنی بھی ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق نان فائلرز، نل فائلرز اور نیل فائلرز کے خلاف بھی خصوصی مہم چلائی گئی، کیونکہ ماضی میں یہ طبقہ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کا سب سے کمزور حصہ تصور کیا جاتا تھا۔ بینکنگ ٹرانزیکشنز، پوائنٹ آف سیل ریکارڈز اور ایف بی آر میں جمع کرائے گئے ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر رسک بیسڈ ڈیٹا ٹرائینگولیشن کے ذریعے ان میں سے بڑی تعداد کو فعال ٹیکس دہندگان میں تبدیل کیا گیا، جس سے سالانہ محصولات میں نمایاں اضافہ ممکن ہوا۔ مزید ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت پنجاب ریونیو اتھارٹی نے ماہر تکنیکی افرادی قوت پر مشتمل اسپیشلائزڈ کنسلٹنسی اینڈ ڈیٹا اینالیٹکس ونگ بھی قائم کیا، جس نے تقریباً 11 ارب روپے مالیت کی سسٹم کنٹراوینشنز کی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق اس ونگ نے نظام میں موجود خامیوں اور تکنیکی نقائص کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے، داخلی کنٹرول کو مضبوط بنانے اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا۔
اسلام آباد امریکہ ایران کشیدگی: تیل 87 ڈالر سے اوپر، عالمی مارکیٹوں میں مندی کا رجحان، برینٹ کروڈ 87.33 ڈالر کا...
کراچی وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے شہدا سے متعلق...
ڈڈیال پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے ٹروتھ...
اسلام آباد پٹرول316.15 اور ڈیزل354.35روپے کا ہوگیا،حکومت نے پٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل31 روپے 5 پیسے فی لیٹر مزید...
اسلام آباد پاکستان کو گزشتہ مالی سال میں 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے موصول، چین نے بڑا کردار ادا کیا؛...
سلام آباد سابق آرمی چیف جنرلراحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی، قومی...
اسلام آباد شنگھائی تعاون تنظیم کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سرحدوں پر ابھرتے ہوئے خطرات اور چیلنجز...
اسلام آباد پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کی جانب سے ساتویں اسپاٹ کارگو کے لیے بولیاں طلب، جولائی کے آخر میں...