قطر نے ایل این جی پر فورس میجر اگست تک بڑھا دی پاکستان اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری جاری رکھنے پر مجبور

08 جولائی ، 2026

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) قطر انرجی نے راس لفان ایل این جی پیداواری کمپلیکس پر حملے کے بعد نافذ کی گئی فورس میجر کی مدت میں مزید ایک ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اسے اگست 2026 کے اختتام تک بڑھا دیا ہے، جس کے باعث پاکستان کو اپنی گیس ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگی اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک نے دی نیوز کو بتایا کہ حکومت کو توقع ہے کہ اگر فورس میجر ستمبر میں ختم ہو گئی تو قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کے تحت ایل این جی کارگو کی فراہمی دوبارہ معمول پر آ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد وزیراعظم کو تازہ صورتحال سے آگاہ کریں گے اور قطر کی قیادت سے رابطے کے لیے ان کی مداخلت حاصل کریں گے تاکہ فورس میجر جلد ختم کرائی جا سکے۔ وزیر کے مطابق حملے سے قبل قطر سے پاکستان کے لیے لوڈ کیے گئے پانچ ایل این جی کارگو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے باعث تاخیر کا شکار ہوئے تھے، تاہم وہ تمام کارگو اب پاکستان پہنچ چکے ہیں اور اب معاہدے کے تحت پہلے سے لوڈ کیا گیا کوئی اضافی کارگو دستیاب نہیں، جس کے باعث حکومت کو بین الاقوامی مسابقتی بولی کے ذریعے اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنا پڑ رہی ہے۔ پاکستان کو اب تک قطر انرجی کے ساتھ حکومتی معاہدے کے تحت برینٹ خام تیل کی قیمت کے 13.37 فیصد کے فارمولے پر پانچ کارگو موصول ہو چکے ہیں، جن میں الخرائطیات، میزم، فویریت، لبریثہ اور مریخ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان تین اسپاٹ کارگو بھی درآمد کر چکا ہے۔