مشرقِ وسطیٰ میں نیا سکیورٹی آرڈر، ایران کی واپسی، اسرائیل کے لیے چیلنج، امریکی جریدہ

08 جولائی ، 2026

کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی جریدے کا کہنا ہے مشرقِ وسطیٰ میں نیا سکیورٹی آرڈر، ایران کی واپسی، اسرائیل کے لیے چیلنج، سعودیہ، خلیجی ریاستیں اور ایران نئے علاقائی سیکورٹی فریم ورک کی طرف گامزن، امریکی سیکورٹی چھتری پر سوالیہ نشان، ایران کو الگ کرنیکی پالیسی ناکام، مخالف ابراہیمی معاہدوں کا خطرہ، جنگوں نے توازن بدل دیا، امریکہ و اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید، فلسطینی ریاست کے بغیر امن ناممکن، 1967 سرحدیں پھر مرکزِ بحث، ایران نے اشارہ دیا فلسطینی ریاست کی صورت میں اسرائیل کی شمولیت ممکن ہے۔ امریکی جریدے فارن پالیسی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ ایک نئے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایران کو الگ تھلگ کرنے کی عشروں پرانی پالیسی ناکام ہو چکی ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جنگ نے نہ صرف خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیا بلکہ امریکی سکیورٹی چھتری بھی بے نقاب کر دی- اب سعودی عرب، خلیجی ریاستیں اور ایران ایک نئے علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی تشکیل کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں معاشی تعاون، عدم جارحیت معاہدے اور مشترکہ سلامتی کا تصور شامل ہے، جبکہ قطر کے وزیر اعظم کے بیانات اس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہیں-تاہم یہ نیا نظام اگر اسرائیل کو خارج کر دیتا ہے تو یہ ایک خطرناک اینٹی ابراہام اکارڈز بلاک میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو اسرائیل کو عالمی تنہائی کی طرف دھکیل دے گا- اسی تناظر میں فلسطینی ریاست کا قیام، عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں پر عملدرآمد، اور 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر حل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ مجوزہ ماڈل اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع، غیر جانبدار اور شمولیتی سکیورٹی آرڈر کی تشکیل پر زور دیتا ہے- ایران کی ممکنہ آمادگی، اسرائیل کے لیے مشروط شمولیت، اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی ذمہ داریوں کو خطے میں منتقل کرنے کی حکمت عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر اس موقع سے درست فائدہ اٹھایا گیا تو نہ صرف خلیج بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک زیادہ مستحکم، متوازن اور پائیدار امن کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ تفصیلی تجزے کے مطابق علاقائی ریاستوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایران کو محدود اور الگ تھلگ کرنا نہ صرف ناکام رہا بلکہ ایک تباہ کن جنگ کو جنم دیا جس نے امریکی سیکیورٹی چھتری کی ناقابل اعتباری اور حیران کن حدود دونوں کو بے نقاب کیا۔