بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پرمعطل یا ختم نہیں کرسکتا،سرفراز بگٹی

02 ستمبر ، 2026

کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی حیثیت سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے مؤقف کی اہم قانونی اور سفارتی کامیابی قرار دیا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ اس امر کی واضح توثیق ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا ’’التوا‘‘ میں نہیں رکھ سکتا، معاہدہ بدستور نافذ العمل اور بھارت کے لیے قانونی طور پر پابند ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عدالت نے بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی یا خاتمے کے لیے پیش کیے گئے مختلف جواز، جن میں خودمختاری، پاکستان کی جانب سے مبینہ خلاف ورزی، دہشت گردی، حالات میں تبدیلی، مسلح تنازع اور جوابی اقدامات شامل تھے، کو تسلیم نہیں کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں ترمیم یا اس کا خاتمہ صرف پاکستان اور بھارت کی باہمی رضامندی سے ایک نئے معاہدے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے پانیوں سے متعلق پاکستان کے دیرینہ حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ نہایت اہم ہے اور اس سے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور عالمی قانون کی بالادستی کے اصول مزید مضبوط ہوئے ہیں۔