پانی کو ہتھیار نہیں بننے دینگے، یہ خطے کی لائف لائن ہے، سندھ طاس معاہدے پر غیر مشروط عملدرآمد کیا جائے، وزیراعظم

02 ستمبر ، 2026

اسلام آباد (نیو زرپورٹر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی ہمارے خطے کی لائف لائن اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، پانی کو سیاسی دباؤ کیلئے ہتھیار نہیں بننے دینگے، سندھ طاس معاہدے پر غیر مشروط عملدرآمد کیا جائے، ایران امریکا تنازع کے حل اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سب سے قابل عمل اور پائیدار راستہ ہے، حالیہ بحران نے محفوظ توانائی راہداریوں کی اہمیت واضح کردی، مکہ دفاعی اتحاد مشترکہ عزم کا واضح پیغام ہے، اقوام متحدہ میں فوری اصلاحات کی جائیں، پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون پر یقین رکھتا ہے،دہشت گردی ایس سی او ممالک کیلئے مشترکہ خطرہ ہے۔غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک ہے، عالمی برادری کو بے گناہ فلسطینی عوام کی تکالیف کے خاتمے اور انکے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے تحفظ کیلئے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہونگے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز شنگھائی تعاون تنظیم کے ایس سی او پلس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا اس وقت بے مثال ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے،80 برس قبل اقوام متحدہ کا قیام اس عالمگیر خواب کو حقیقت بنانے کیلئے عمل میں لایا گیا تھا کہ تمام جنگوں اور تنازعات کا خاتمہ ہو اور پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔ ان آٹھ دہائیوں کے دوران پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کیلئے مکمل طور پر پُرعزم اور کاربند رہا ہے،ہم اس کو ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے ذریعے زیادہ مساوی، جمہوری اور منصفانہ بین الاقوامی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے تاہم آج اقوام متحدہ کو فوری طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے، اسے زیادہ جوابدہ اور حالات کے تقاضوں کے مطابق مؤثر بننا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی سطح پر قیام امن کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے،ہماری امن کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ اپنے اہم مرحلے کو پہنچیں یہ خلیجی خطے میں جاری تنازع کے خاتمے کیلئے سب سے زیادہ قابل عمل اور پائیدار راستہ ہے اور تمام فریقوں کیلئے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے امن کے حصول کی ایک وسیع طور پر قابل قبول بنیاد ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی دستخط کنندہ ہے جس نے اتحاد اور مشترکہ عزم کا واضح پیغام دیکر خطے میں امن کے امکانات کو مزید مضبوط کیا ہے اور ساتھ ہی خطے میں ترقی اور خوشحالی کے فروغ کی راہ ہموار کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پانی ہمارے خطے کی شہ رگ ہے جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا سہارا ہے ہماری زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے پانی کو کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے اور نہ ہی اسے سیاسی دباؤ ڈالنے کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے،ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے لازمی پابندیوں اور وعدوں کی حیثیت رکھتے ہیں جن کا ہر صورت مکمل احترام کیا جانا چاہئے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی ہمارے رکن ممالک اور درحقیقت یہاں ’’ایس سی او پلس‘‘ میں نمائندگی رکھنے والے دیگر ممالک کیلئے بھی ایک مشترکہ خطرہ ہے،ہم علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کے تحت اپنے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کیلئے مکمل طور پر پرعزم ہیں جن میں تین برائیوں ’’دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی‘‘ سے نمٹنا شامل ہے،پاکستان دہشت گردی کی لعنت کا بہادری اور ثابت قدمی سے مقابلہ اور اسے شکست دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا،90 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی اور 150 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات کے باوجود ہماری قوم نے دہشت گردی کے خلاف نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کیلئے بھی پُرعزم اور ثابت قدم ہو کر جدوجہد کی ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کو اس کی تمام اقسام اور مظاہر میں، بشمول ریاستی دہشت گردی واضح اور غیر مبہم الفاظ میں قابلِ مذمت قرار دیا جانا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ علاقائی روابط اور باہمی رابطہ کاری ہمارے لیے ایک مشترکہ ترجیح ہے تاہم یہ صرف اسی صورت حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے جب افغانستان میں امن اور استحکام قائم ہو ،وہ دہشت گرد گروہ جو افغان سرزمین کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک پر حملوں اور بے گناہ لوگوں کے قتل کیلئے استعمال کرتے ہیں انہیں مؤثر انداز میں روکنا ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جیسے ہی پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہی سنبھال رہا ہے، ہم اس پختہ یقین کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے کہ ایس سی او کو اپنے عوام کیلئے ٹھوس اور عملی فوائد فراہم کرنے چاہئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ ایک سال کے دوران ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، توانائی، ترقی اور غربت کے خاتمے، آفات سے نمٹنے، صحت، ثقافت اور کھیلوں کے شعبوں کو ترجیح دیں گے۔ وزیراعظم نے ایس سی او کی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے پاکستان کے پختہ عزم اور عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے ایس سی او کو مزید عظیم بلندیوں تک لے جانے کی اپنی کوششوں میں ہم اس مقصد کیلئے ایس سی او کے رکن ممالک اور اپنے قابل قدر ایس سی او پلس خاندان کے بھرپور اور مخلصانہ تعاون کے خواہاں ہیں۔ وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رہنماؤں کو 2027ء میں اسلام آباد میں ایس سی او پلس اجلاس کے آئندہ ایڈیشن میں شرکت کی دعوت بھی دی۔