اسلام آباد ہائیکورٹ، عمران اور بشریٰ کو قید تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم

02 ستمبر ، 2026

اسلام آباد(خبر نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران اور بشری کو قید تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم دیدیا ۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے  ان کی اہل خانہ سے ملاقا توں،عمران کی بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہدایت جاری کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے 15 دنوں میں عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی ۔ عدالت نے واضح کیا کہ بانی کی بیٹوں سے واٹس ایپ کال کے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال پر یہ ساری سہولیات معطل کی جا سکیں گی۔ عدالت نے بانی کو میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے مطابق روزانہ ایک گھنٹہ واک کی اجازت،جیل اخبارات، میگزین اور مطالعے کے لئے کتب کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ۔ تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو تنہائی میں نہ رکھنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ان کے آئینی، قانونی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ۔ایک بیان میں شیخ وقاص اکرم نے عدالت کے واضح احکامات کو سراہا، جس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں نہ رکھنے اور اڈیالہ جیل حکام کو جیل قوانین کے مطابق دونوں کی ملاقات کرواا نے کی ہدیات کی گئی ۔ جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل سنگل بنچ نے 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ سیکورٹی کو بنیاد بنا کر بانی پی ٹی آئی کو انسانی تعلق اور بات چیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ میڈیکل بورڈ کی سفارشات اور جیل قوانین مطابق انہیں ٹی وی کی سہولت دی جائے،بشریٰ بی بی کو بھی غیرقانونی قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے، تمام شرائط و ضوابط کا ان پر بھی یکساں اطلاق ہو گا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل یقینی بنائیں کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا جائے گا، دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ قیدیوں کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے مناسب نہیں ہو گا۔ یہ عدالت طویل عرصے سے جاری انسانی روابط پر پابندی کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتی۔ سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر قانونی علیحدگی اور درحقیقت قیدِ تنہائی میں رکھنے میں فرق ہے۔ اس فرق کا تعین قیدی کو فراہم کردہ کمروں سے نہیں بلکہ ایسے ہوتا ہے کہ قیدی کو معقول اور بامعنی انسانی میل جول میسر ہے یا نہیں؟ سیکورٹی وجوہات ایسے روابط کو منظم کر سکتی ہیں لیکن اسے مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتیں۔ یاد رہے کہ علیمہ خانم نے بانی پی ٹی آئی جبکہ مبشرہ مانیکا نے بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا.