خلیجی خام تیل کی قیمت 105ڈالر سے تجاوز، مہنگائی کے نئے خطرے کا سامنا

02 ستمبر ، 2026

اسلام آباد ( خالد مصطفیٰ) آبنائے ہرمز پر تعطل میں شدت آنے کے باعث خلیج سے خام تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ خلیج سے منسلک اہم خام تیل کے معیار مربان کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جس سے پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والی معیشتوں کو مہنگائی کے ایک نئے جھٹکے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ منگل کو دستیاب مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 3.87 فیصد اضافے سے 93.99 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 4.37 فیصد بڑھ کر 89.51 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ خلیج کے اہم بینچ مارک مربان خام تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ 7.14 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 105.48 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ پاکستان کے لیے تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی بلند مہنگائی کا سامنا کر رہا ہے اور پٹرولیم و توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر بھاری انحصار کرتا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں طویل عرصے تک اضافہ پاکستان کے تیل کے درآمدی بل میں نمایاں اضافہ، روپے پر اضافی دباؤ اور بیرونی مالیاتی ضروریات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔