پنجاب اسمبلی ، 16سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی قرار داد منظور

02 ستمبر ، 2026

لاہور(نمائندہ خصوصی،خبر نگار)پنجاب اسمبلی نے 16 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے اور انہیں آن لائن خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر قانون سازی کی سفارش پر مبنی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ قرارداد چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب و ایم پی اے سارہ احمد نے پیش کی۔ قرارداد میں بچوں کو سائبر ہراسانی، آن لائن جنسی استحصال اور نامناسب مواد سے تحفظ فراہم کرنے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کم عمر صارفین کی عمر کی مؤثر تصدیق کا نظام وضع کرنے اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں کے تحفظ کے مقررہ معیارات پر عملدرآمد کا پابند بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ چیئرپرسن سارہ احمد نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق ہر بچے کو محفوظ بچپن اور محفوظ ڈیجیٹل مستقبل فراہم کیا جائے گا۔ پاکستان میں بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کے لیے مؤثر ضابطہ جاتی نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا تحفظ اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول حکومت پنجاب کی ترجیحات میں شامل ہے، بچوں کے بہترین مفاد کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ قرارداد میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مربوط نظام قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔پنجاب اسمبلی اجلاس میں سپیکر نے احمد اقبال چوہدری کو صفائی ورکرز کی حفاظت کا بل پیش کرنے سے روک دیا اور کہا کہ حکومت احمد اقبال کے ساتھ مشاورت کرے اور یہ بل کسی صورت نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ اپوزیشن رکن احمر رشید بھٹی نے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر سوال اٹھایا تو سپیکر نے محکمہ ہاؤسنگ سے جواب طلب کیا، اور کہا کہ اگر معاملات عدالت یاں محکمہ سے حل نہیں ہوتے تو اسمبلی اپنا کردار ادا کرے گی۔ایوا ن نے سندھ طاس معاہدے کے تحفظ سمیت متعدد قراردادیں بھی متفقہ طور پر منظور کرلیں۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے چار منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس میں زیرو آور کے دوران اپوزیشن رکن احمر رشید بھٹی نے لاہور میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ بے شمار سوسائٹیز لوگوں کے پیسے ہضم کر کے بیٹھی ہیں، پارلیمانی سیکرٹری ہاؤسنگ سلطان باجوہ نے بتایا کہ متعلقہ سوسائٹی کے خلاف نیب میں کیس چل رہا ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی کو صرف نیب کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ سپیکر نے محکمہ ہاؤسنگ سے معاملے پر جلد از جلد جواب طلب کیا اور محکمہ کو نیب کے ریجنل ڈائریکٹر کو طلب کرکے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز پر کاروائیوں کا جواب لینے کی تجویز دی۔ سپیکر نے کہا کہ اگر عدالت یا محکمہ مسئلہ حل نہ کر سکا تو پارلیمانی کمیٹی بنا کر معاملہ آگے بڑھایا جائے گا۔ سندھ طاس معاہدے سے متعلق قرارداد میں بھارت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے جائز آبی حقوق کے تحفظ اور معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے پر زور دیا گیا، جبکہ ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس بدھ دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔