کاروباری آسانی کیلئے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

03 اکتوبر ، 2026

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں، حکومت کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے اور غیر ضروری ضابطہ کاری کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے،کاروبار میں آسانی کیلئے آسان کاروبار ایکٹ کو ملک بھر میں نافذ کیا جائے،وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز اپنی زیر صدارت ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سےبلائے گئے اجلاس کے دوران کیا، شہباز شریف سے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بھی ملاقات کی ، انہوں نے وزیراعظم کو وزارت ریلوے سے متعلقہ امور اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی ۔اجلاس میں کاروبار میں آسانی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ریگولیٹری نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور کاروبار دوست بنانے کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان(DRAP) میں اصلاحات کے ذریعے اسے جدید خطوط پر استوار کیا گیا ، اسی طرز پر دیگر ریگولیٹری اداروں میں بھی اصلاحات لائی جائیں، انہوں نے ہدایت کی کہ ریگولیٹری رجسٹری تشکیل دی جائے تاکہ ملک میں موجود تمام ریگولیٹری تقاضوں اور قواعد و ضوابط کو ایک جامع نظام کے تحت مرتب کیا جا سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار میں آسانی کیلئے آسان کاروبار ایکٹ کو ملک بھر میں نافذ کیا جائے تاکہ تمام صوبوں میں ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پیدا ہو اور کاروباری افراد کو یکساں سہولیات میسر آئیں،ریگولیٹری اصلاحات کے اثرات اور افادیت کا جائزہ لینے کے لیے ان اصلاحات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی کرائی جائے تاکہ اصلاحات کے عملی نتائج کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جا سکے، سرمایہ کاروں کو سازگار اور سہل کاروباری ماحول فراہم کیے بغیر ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی جانب سے کی گئی ریگولیٹری اصلاحات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ کاروباری برادری ان اصلاحات سے آگاہ ہو اور ان سے بھرپور استفادہ کر سکے، ایس آئی ایف سی کا وفد تمام صوبوں کا دورہ کرے اور صوبائی حکومتوں کو ریگولیٹری اصلاحات کے عمل میں اعتماد میں لے، تاکہ ملک بھر میں کاروباری سہولت کاری اور ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔وزیراعظم نے مشیر برائے صنعت ہارون اختر خان کو ہدایت کی کہ صوبوں کے دوروں کے لیے وفد کی قیادت کریں اور ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنائیں۔وزیراعظم نے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایت کی کہ وہ کابینہ کی جانب سے منظور شدہ اصلاحات پر بروقت عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے SIFC اور چیف سیکریٹری پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ مارچ 2027 تک ʼای-بز پنجابʼ اور ʼبی ایف سی اسلام آباد کے انضمام کا عمل مکمل کریں۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات کے نتیجے میں کاروباری اداروں کو ٹھوس فوائد حاصل ہونے چاہئیں، انہوں نےایس آئی ایف سی کو ہدایت کی کہ وہ نجی شعبے کے ساتھ فعال تعاون کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ فراہم کردہ سہولیات کے بارے میں مؤثر طریقے سے آگاہی دی جائے اور ان سے استفادہ کیا جائے۔اجلاس کو کاروبار میں آسانی کے حوالے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کو پنجاب حکومت کی ای- بز کی طرز پر جدید بنایا جا رہا ہے۔ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر اور امپورٹ پالیسی آرڈر کو سہل بنایا جارہا ہے،ایس آئی ایف سی ریگولیٹری ریفارمز کے حوالے سے تمام صوبوں، بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان، سے رابطے میں ہے ۔ کابینہ کی ریگولیٹری ریفارمز کمیٹی نے 7 ملٹی سیکٹرز میں 557 ریفارمز کی منظوری دی ہے جس سے سالانہ 460 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔