گورنر راج ناپسندیدہ عمل، لانگ مارچ سے گریز کریں، رانا ثناء، مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے، اخونزادہ یوسفزئی

03 اکتوبر ، 2026

کراچی (ٹی وی رپورٹ) مشیر وزیراعظم برائے سیاسی اُمور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ کسی صوبے میں گورنر راج لگانا ایک ناپسندیدہ عمل ہے ،لانگ مارچ سے گریز کریں۔  لانگ مارچ کرنا ہے تو خیبرپختونخوا میں کریں ،ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ مذاکرات خوش آئند، مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے، پرامن جمہوری حق استعمال کرینگے۔ سینئر رہنما پیپلز پارٹی شیری رحمان نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق ہم اپنی پوزیشن پرکھڑے ہیں۔ تینوں مہمان جیو نیوز کے پروگرام’ نیا پاکستان‘ میں شہزاد اقبال سے گفتگو کر رہے تھے۔تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان شہزاد اقبال نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے۔ نمائندہ جیو نیوز وقارستی کے ذرائع کے مطابق محسن نقوی اور رانا ثنا نے وزیراعظم شہباز شریف کو مذاکرات کی پیشکش سے آگاہ کر دیا ہے نمائندہ جیو نیوز حیدر شیرازی کے ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن پر واضح کر دیا ہے کہ احتجاج اور انتشار سے رعایتیں نہیں ملیں گی۔ ۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم برائے سیاسی اُمور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وفد کے ساتھ ملاقات میں ماحول خوشگوار تھا اور ان سے دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوئی یہ طے ہوا ہے کہ ایسی کوئی بات نہ کی جائے جو کل کی ملاقات پر اثر انداز ہو۔ اپوزیشن سے کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ کی طرف نہ جائیں۔ اپوزیشن نے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں مقدموں اور ملاقاتوں پربات کی۔ خیبرپختونخوا سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور معاونت درکار ہے۔ لانگ مارچ کرنا ہے تو خیبرپختونخوا میں کریں۔ پی ٹی آئی وفد کو کہا ہے اپنے مطالبات کے لئے سیاسی طریقہ کار اپنائیں اور تشدد کے راستے پر نہ جائیں۔ دوسرے سیشن میں پی ٹی آئی کی طرف سے زیادہ بات چیت بیرسٹر گوہر اور ناصر عباس نے کی۔ ہماری طرف سے بات چیت خیبرپختونخوا کی حکومت سے متعلق تھی۔ لانگ مارچ دوسرا مسئلہ ہے بنیادی مسئلہ صوبے میں دہشت گردی کا ہے۔ اگر یہ بات کی جائے کہ بانی سے ملاقات سے مسئلہ حل ہوجائے گا تو ملاقاتیں پہلے بھی تو ہوئی ہیں۔ عسکری اور سیاسی قیادت نے طے کیا ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد میں نہیں ہونا چاہئے۔ سہیل آفریدی کے جانے یا نہ جانے سے فرق نہیں پڑتا۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مقتدرہ مذاکرات سے خوش نہیں ہے البتہ وہ اس بات سے بالکل خوش نہیں ہوسکتے کہ دہشت گردی کو نظر انداز کیا جائے اور صوبائی حکومت اس معاملے میں عدم تعاون کرے۔ وزیراعظم اور صدر کامشترکہ فیصلہ تھا کہ اپوزیشن سے بات کی جائے۔ ۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ دیر آید درست آید خوشی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں ہم نے ہمیشہ بامعنی مذاکرات کی تائید کی ہے دونوں سائیڈ سے اس پر اتفاق کیا گیا ہے کہ مذاکرات سے متعلق زیادہ بات میڈیا پر نہیں کریں گے تاہم شیری رحمان نے غیر ذمہ داری دکھاتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے لانگ مارچ کو لے کر جو بات کی گئی ایسا کوئی بات نہیں ہوئی ہے نہ ہم نے وقت مانگا ہے نہ کال آؤٹ کرنے کا کہا ہے بہت سے پرپوزل میز پر موجود ہیں اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ کل دوپہر میں اس پر اپنا نقطہ نظر پیش کریں گے۔ ابھی تک ہم اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے ہیں ہمارا پرامن جمہوری حق ہے جسے ہم استعمال کریں گے۔ ہم نے ان سے یہی کہا ہے کہ سسٹم بند گلی میں آچکا ہے اور ہمیں پاکستان عزیز ہے۔صوبے کے معاملات سے متعلق میٹنگ میں کہا ہے کہ بہتر ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی سیکیورٹی ٹیم سے میٹنگ کریں ہم سیاسی ڈائیلاگ کے لئے ان کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ہمارے سیاسی مطالبات تھے انہوں نے بات دہشت گردی سے متعلق کی۔