ریاستی بالادستی، کمزور ضابطہ کاری پاکستان کے انشورنس شعبے کی راہ میں رکاوٹ

03 اکتوبر ، 2026

اسلام آباد (اسرار خان) پاکستان کا انشورنس شعبہ توسیع کے وسیع امکانات رکھتا ہے تاہم سرکاری ملکیت رکھنے والی انشورنس کمپنیوں کو ترجیحی سہولتوں، سخت ضوابط، بینکوں کے ذریعے انشورنس مصنوعات کی غلط فروخت اور لازمی موٹر انشورنس پر کمزور عملدرآمد کے باعث شعبے کی ترقی محدود ہے۔ یہ بات مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی ایک جائزہ رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کی رائے کے لیے زیرغور سی سی پی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فی کس انشورنس ڈینسٹی تقریباً 14 ڈالر ہے جبکہ بھارت میں یہ شرح 82 ڈالر اور ترکیہ میں 134 ڈالر ہے۔ 24 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں 2022ء کے دوران انشورنس کمپنیوں نے صرف تقریباً 78 لاکھ پالیسیاں فروخت کیں۔ سی سی پی کے جائزے پر ’’پاکستان کے انشورنس شعبے میں مسابقت کا فروغ: چیلنجز، مواقع اور مستقبل کا لائحہ عمل‘‘ کے عنوان سے مسابقتی مشاورتی گروپ کے اجلاس میں غور کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے زیادہ مسابقتی مارکیٹ، وسیع تر ڈیجیٹلائزیشن، کلیمز نمٹانے کے بہتر نظام اور انشورنس مصنوعات تک عوام کی زیادہ رسائی پر زور دیا۔ سی سی پی کے چیئرمین فرید احمد تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں انشورنس کی کم شرح شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات ظاہر کرتی ہے، جبکہ مسابقت میں اضافے سے جدت، خدمات کے معیار اور صارفین کے انتخاب کے دائرے کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ جائزے کے مطابق چار سرکاری ادارے انشورنس مارکیٹ پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اور پوسٹل لائف، لائف انشورنس کے شعبے میں کام کرتے ہیں، نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) سرکاری املاک کی انشورنس پر غالب ہے جبکہ پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ (پی آر سی ایل) ملک کی واحد باقاعدہ طور پر شامل کردہ ری انشورنس کمپنی ہے۔ اسٹیٹ لائف کا اکیلا حصہ لائف انشورنس مارکیٹ میں تقریباً 55 فیصد ہے اور اسے اپنی پالیسیوں کے لیے وفاقی حکومت کی ضمانت بھی حاصل ہے، جس سے اسے نجی مسابقت کاروں پر برتری حاصل ہوتی ہے۔ این آئی سی ایل کو سرکاری شعبے کی املاک کی انشورنس کے خصوصی حقوق حاصل ہیں جبکہ پی آر سی ایل کو معاہداتی ری انشورنس کاروبار میں کم از کم 35 فیصد حصہ اور پہلے انکار کا حق حاصل ہے۔ سی سی پی نے سفارش کی ہے کہ ایسی ترجیحی سہولتیں ختم کی جائیں، سرکاری املاک کی انشورنس کو مسابقت کے لیے کھولا جائے اور انشورنس کمپنیوں کو بیرون ملک فیکلٹیٹو ری انشورنس حاصل کرنے کے لیے زیادہ وسیع انتخاب کی اجازت دی جائے۔ صارفین کا اعتماد بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بینکاشورنس، یعنی بینکوں کے ذریعے انشورنس کی فروخت، انشورنس کمپنیوں کو صارفین کے ایک بڑے حلقے تک رسائی فراہم کرتی ہے تاہم اس طریقہ کار کے حوالے سے ایسی شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ بعض انشورنس پالیسیاں بینک ڈپازٹس یا سرمایہ کاری کی مصنوعات کے طور پر فروخت کی گئیں جبکہ اہم فیسوں، خطرات اور شرائط سے صارفین کو مناسب طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ سی سی پی نے معلومات کی لازمی فراہمی اور فروخت کے معیارات مزید سخت کرنے، بینک عملے کی بہتر تربیت اور بینکوں و انشورنس کمپنیوں سے متعلق شکایات کے ازالے کی ذمہ داری واضح کرنے کی سفارش کی ہے۔ موٹر انشورنس بھی ترقی کا ایک بڑا ممکنہ شعبہ ہے۔ اگرچہ تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس قانوناً لازمی ہے اور پاکستان میں سڑکوں پر 3 کروڑ سے زائد گاڑیاں موجود ہیں، تاہم صرف تقریباً 3 فیصد گاڑیاں بیمہ شدہ ہیں، جس کے باعث بیشتر گاڑی مالکان اور حادثات میں متاثر ہونے والے افراد مناسب مالی تحفظ سے محروم ہیں۔