سینیٹ کمیٹی کا غیر ملکی فنڈز سے جاری منصوبوں کا جائزہ

03 اکتوبر ، 2026

اسلام آباد (مہتاب حیدر)سینیٹ کمیٹی کا غیر ملکی فنڈز سے جاری منصوبوں کا جائزہ، CAREC ٹرنچ III میں 5 ارب روپے سے زائد موبلائزیشن ایڈوانس کی تحقیقات کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور ڈویژن نے جاری غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور کاریک ٹرنچ III (راجن پور-ڈی جی خان-ڈی آئی خان) منصوبے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے 5 ارب روپے سے زائد کی موبلائزیشن ایڈوانس رقم کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سینیٹ کی کمیٹی نے مختلف غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبوں کا جائزہ لیا، بالخصوص پنجاب میں پانی اور نکاسیٔ آب کے منصوبوں، 765 کے وی داسو-اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے اور کمیونیکیشن سیکٹر کے کاریک ٹرنچ-III منصوبے کا۔ کمیٹی نے منصوبوں میں طویل تاخیر، خریداری کے طریقۂ کار، کنسلٹنٹس کے انتخاب، منصوبوں پر عمل درآمد اور پارلیمانی فورم کو بریفنگ دینے کے لیے اعلیٰ حکام کی دستیابی پر سوالات اٹھائے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہوا، جس میں پنجاب میں جاری اور مستقبل کے غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبوں کے حوالے سے اقتصادی امور ڈویژن کی تفصیلی بریفنگ کا ایجنڈا زیر بحث آیا۔ یہ منصوبے واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) کی جانب سے کثیرالجہتی اور دوطرفہ ترقیاتی شراکت داروں اور اقوام متحدہ کے اداروں کے تعاون سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کو جاری غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور بالخصوص فیصل آباد شہر کے لیے پانی کے وسائل میں توسیع کے منصوبے (فیز-II) کا جائزہ لیا گیا، جس کی گنجائش 30 ملین گیلن یومیہ ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کی منظوری 2019 میں دی گئی تھی۔ بحث کے دوران کمیٹی نے غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ طویل تاخیر کا بالآخر اثر عام عوام پر پڑتا ہے، کیونکہ انہیں خدمات کی فراہمی میں تاخیر، اضافی اخراجات اور منصوبوں کی تکمیل کی مدت میں غیر ضروری توسیع کی صورت میں اس کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ اقتصادی امور ڈویژن کے سیکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ ماضی میں غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبوں میں تاخیر کے معاملے کو کسی واضح پالیسی فریم ورک کے تحت منظم نہیں کیا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں طریقۂ کار مکمل ہونے میں طویل وقت لگتا تھا۔ کمیٹی کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ دوبارہ ٹینڈرنگ (ری ٹینڈرنگ) کے عمل میں وہی غیر ملکی کمپنیاں شریک ہوئیں۔