مارچ کی کال واپس لی جائے ، حکومت، بانی کو رہا ،طبی معائنہ کرایاجائے ، پی ٹی آئی

03 اکتوبر ، 2026

اسلام آباد ( طاہر خلیل )سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے اراکین کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی امور اور درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ فریقین نے اپنے مؤقف سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا، بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور مختلف معاملات پر تحمل، سنجیدگی اور باہمی احترام کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی گئی،ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کردیا، بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کی بات کی گئی، بانی کی بہنوں اورگرفتار ارکانِ اسمبلی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے، حکومتی وفد نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ کی کال واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قومی مسائل کو مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے، تمام فریقین نے سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم اور پارلیمانی مکالمے کے ذریعے آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، مذاکرات کا دوسرا دور آج 3 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے اسپیکر چیمبر میں منعقد ہوگا، میڈیا سے گفتگو میں راجہ ناصر عباس نے کہا کہدونوں کمیٹیوں نے ہر معاملے پر اپنا مؤقف کھل کر سامنے رکھا، شیری رحمٰن نے کہا کہ پی ٹی آئی کو غیر مشروط طور پر لانگ مارچ ختم کرنا ہوگا جبکہ بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اچھے ماحول میں مذاکرات ہوئے ، دوسری طرف محسن نقوی اور رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں اب تک ہونے والے مذاکرات سے متعلق آگاہ کیا اور پیشرفت بارے اعتماد میں لیا۔ اعلامیے کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے انعقاد اور باہمی رابطے کو مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ا جلاس میں وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن رضا نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری نے شرکت کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، اراکین قومی اسمبلی نوید قمر اور اعجاز حسین جکھرانی شریک ہوئے۔اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، ملک عامر ڈوگر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ نے اجلاس میں شرکت کی۔ ، اعلامیہ کے مطابق ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ارکان نے قومی مسائل کو مذکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے کہاہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں تلخی نہیں، باوقار انداز میں تمام امور پر کھل کر گفتگو ہوئی۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی بات پر گلہ شکوہ ضرور کیا تاہم اسے تلخی قرار نہیں دیا جا سکتا، دونوں کمیٹیوں نے ہر معاملے پر اپنا مؤقف کھل کر سامنے رکھا۔پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کو مذاکرات میں جو حتمی بات ہوتی ہے میڈیا کے ذریعے سب کے سامنے رکھیں گے، یہ طویل مذاکرات نہیں ہیں ، پی ٹی آئی کو غیر مشروط طور پر لانگ مارچ ختم کرنا ہوگا ، پی ٹی آئی نے جواب کیلئے وقت مانگا ہے ، دہشتگردی کا معاملہ پیپلزپارٹی کیلئے ریڈ لائن ہے ،ہم نے مذاکرات میں ایک دوسرے کو وقت دینے پر اتفاق کیا ہے ، ہم نے بداعتمادی کا اظہار نہیں کرنا ہے ۔وفاقی وزیر محسن نقوی نے مذاکراتی وفود کو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔، مذاکرات کا دور ختم ہونے پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اچھے ماحول میں مذاکرات ہوئے، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ہفتہ کو بھی جاری رہیں گے، ہم نے اپنے مطالبات سے حکومت کو آگاہ کر دیا ، یہ مذاکرات ماضی سے مختلف رہے، ہم ہمیشہ بانی پی ٹی آئی کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات پر کھڑے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت کا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے معاملے پر مذاکرات میں دو ٹوک موقف اپنا یا کہ بانی پی ٹی آئی کے رہائی کے معاملے پر بات نہیں ہوگی،حکومتی موقف اپنا ہے ، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کھلے دل کے ساتھ مذاکرات میں آئے ہیں،رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم بھی بات چیت کی کامیابی کے خواہاں ہیں،لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے،حکومتی ٹیم کا دو ٹوک موقف تھا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے ، آپ لانگ مارچ کریں دھمکیاں دیں اڈیالہ پر حملے کا کہیں تو یہ درست نہیں۔ سپیکر نے فریقین پر افہام وتفہیم سے آگے بڑھنے پر زور دیا ۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مذاکرات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور قومی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، سیاسی اختلافات کو مذاکرات، باہمی مشاورت اور پارلیمانی فورم کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا، جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری ہے، قومی مسائل کا پائیدار حل مکالمے اور سیاسی مفاہمت سے ہی ممکن ہے،پیپلزپارٹی کے چیف وہپ اعجاز جکھرانی نے میڈیا ٹاک میں کہا کہ مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے، امید ہے بات آگے بڑھے گی۔