حکومت PTIمذاکرات، وفاق KPحکومت سے دہشتگردی کیخلاف حمایت کا خواہاں ، مارچ منسوخی آگے بڑھنے کا واحد راستہ

03 اکتوبر ، 2026

انصار عباسی

اسلام آباد :حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر واضح کیا ہے کہ کسی بھی بامعنی پیش رفت کیلئے پارٹی کو دو بڑے معاملات پر توجہ دینا ہوگی: دہشت گردی کیخلاف جنگ میں خیبر پختونخوا حکومت کا کردار اور اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ۔ جمعہ کو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے آگاہ ذرائع کے مطابق حکومتی فریق نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کو صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی ناکافی معاونت پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق، حکومت کا موقف تھا کہ اگر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا اور تعلقات میں بہتری لانا ہے تو خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے وفاقی حکومت، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کرنا ہوگی۔ حکومتی فریق نے یہ بھی واضح کیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر سیاسی بیانیے میں کسی قسم کا ابہام یا اختلافِ رائے نہیں ہونا چاہئے کیونکہ صوبائی حکومت سے توقع ہے کہ وہ ریاست کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی مکمل حمایت کرے گی۔ حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا دوسرا بڑا معاملہ پی ٹی آئی کا اعلان کردہ مارچ تھا۔ حکومتی نمائندوں نے واضح کیا کہ مارچ یا سڑکیں بند کرنے کی سیاست کیلئے کوئی سیاسی گنجائش نہیں اور اگر مذاکرات میں بامعنی پیش رفت چاہئے تو پی ٹی آئی کو مجوزہ مارچ منسوخ کرنا ہوگا۔ حکومتی فریق نے ایسی احتجاجی سرگرمی کیلئے پیش کی جانے والی کسی بھی دلیل کو بھی مسترد کر دیا۔ یہ معاملہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے منسوب اس موقف کے باعث خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ مجوزہ مارچ ضرور ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، حکومتی فریق نے پی ٹی آئی کے نمائندوں سے خاص طور پر کہا کہ سہیل آفریدی کو مذاکرات میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے ساتھ براہِ راست اس معاملے پر بات کی جا سکے۔ تاہم، پی ٹی آئی کے وفد نے حکومت کو بتایا کہ اس نے جمعرات کو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے ساتھ پہلے ہی ملاقات کی تھی اور سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کو اس معاملے پر فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے، اس یقین دہانی کے ساتھ کہ کمیٹی جو بھی فیصلہ کرے گی، وہ انہیں قبول ہوگا۔ حکومتی ذریعے نے کہا کہ جمعہ کے مذاکرات میں شریک پی ٹی آئی کے نمائندے مبینہ طور پر خود بھی مارچ کی سیاست کے مخالف ہیں، چنانچہ انہیں کہا گیا کہ یہ معاملہ ان لوگوں کے سامنے لے جائیں جو دراصل احتجاج پر اصرار کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ پی ٹی آئی کا وفد پشاور جائے گا اور سہیل آفریدی سے ملاقات کرے گا، جہاں مارچ کا معاملہ زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ مارچ کے حوالے سے فیصلہ ہفتے (آج) تک سامنے آنے کی توقع ہے، جو دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی آئندہ سمت کے تعین میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اپنے دیرینہ مطالبات پیش کیے، جن میں پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات اور ان کے طبی علاج سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ پی ٹی آئی نے پارٹی رہنمائوں کیخلاف درج مقدمات پر بھی اعتراضات اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان میں سے متعدد مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنمائوں کی گرفتاریوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، پارٹی نے ان گرفتاریوں پر تحفظات کا اظہار کیا جنہیں وہ سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی گرفتاریاں قرار دیتی ہے۔ تاہم، حکومت کے دو اہم مطالبات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار اور مجوزہ مارچ کی منسوخی پر مرکوز تھے۔ چنانچہ مذاکرات دونوں فریقوں کو ایک ممکنہ فیصلہ کن مرحلے پر لے آئے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی مارچ اور انسدادِ دہشت گردی میں خیبر پختونخوا حکومت کے کردار سے متعلق حکومت کے تحفظات دور کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہے تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر پارٹی قیادت یا خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ مارچ پر قائم رہتے ہیں تو حکومت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اسے محاذ آرائی پر مبنی مارچ اور سڑکیں بند کرنے کی سیاست قرار دے گی۔ چنانچہ پشاور میں ہونے والی آئندہ مشاورت اور بالآخر سہیل آفریدی کی جانب سے اختیار کیا جانے والا موقف اس بات کے تعین کیلئے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ آیا مذاکرات سے پیشرفت کیلئے راہ ہموار ہوگی یا پھر مذاکرات ایک بار پھر سیاسی تعطل کا شکار ہوں گے۔