18 ترمیم سے اختیارات ملے لیکن صوبے ملک بن گئے، مریم نواز

03 اکتوبر ، 2026

لاہور،گوجرانوالہ (خصوصی نمائندہ/نمائندہ جنگ )وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات تو منتقل کیے گئے، لیکن بدقسمتی سے صوبے اپنے الگ الگ ملک بن گئے۔پاکستان میں پالیسی کا تسلسل نہ ہونا ترقی کی راہ میں حائل ہوجاتا ہے،ہر حکومت کو پانچ سال پورے کرنا چاہیے اگر وہ اچھا کام کررہی ہے۔گورننس بہتر نہیں ہوگی تو ملک ترقی نہیں کرسکتا،گورننس سپورٹ کے بغیر پرفارم نہیں کرسکتے۔اربوں روپے کے ہیلی کاپٹر لے لیئے جاتے ہیں ،تنقید صرف پنجاب پر،کے پی کا سی ایم سرکاری پولیس لے کر پنجاب پر وارد ہوتا ہے،یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے جواب دیں۔وزیر اعلیٰ کا دورہ گوجرانوالہ، الیکٹرو بس کے دو روٹس کا آغاز،گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے مارچ کی ڈیڈ لائن دے دی ۔ گوجرانوالہ میں 74 الیکٹرو بسیں چلائی جائیں گی، ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ، سابق ایم این اے محمودبشیر ورک کے انتقال پر گھر جاکراہل خانہ سے افسوس کا اظہار۔فاتحہ خوانی کی، مرحوم محمودبشیر ورک کی ملک و قوم کیلئے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی جاری کامیاب کارروائیوں پر اظہار تشکر۔وزیر اعلیٰ مریم سے نیشنل کمانڈ اتھارٹی سینئر آفیسر لیڈر شپ کورس کے وفد نے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے سینئر لیڈر شپ کورس کے شرکاء کا لاہور آمد پر خیرمقدم کیا۔ چیف سیکرٹری زاہد زمان اختر نے پنجاب حکومت سے متعلق امور پر بریفنگ دی۔ سینئر لیڈر شپ کورس کے شرکاء نے وزیراعلیٰ کی عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔،خیبر پختونخواکے افسروں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم کی عوامی خدمات دیکھ کر کے پی کے والوں کو بھی رشک آتا ہے۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی سینئر آفیسر لیڈر شپ کورس کے وفد سے فکرانگیز گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ بطورخاتون وزیراعلیٰ مجھے بہت زیادہ عزت اوراحترام ملا۔ہر حکومت کو پانچ سال پورے کرنا چاہیے اگر وہ اچھا کام کررہی ہے۔ہر روزسیکھتی ہوں،جانتی ہوں اس سے عوام کی خدمت کے امور میں بہتری آرہی ہے۔اچھے کام کرنے والوں کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ جنگ میں دنیا نے پاکستان کا شاندار امیج اورنیا روپ دیکھا۔ آرمی اوردیگر سکیورٹی ادارے ملک و قوم کی حفاظت کیلئے قابل قدر کام کررہے ہیں،شہادتیں بھی ہورہی ہیں۔سیکیورٹی داخلی خطرات کا سامنا گڈ گورننس،پرفارمنس سے کیا جا تا ہے۔ہم پنجاب،کے پی کے،بلوچستان یا گلگت کی بات نہیں کرتے،سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نے مزید کہا کہ افغانستان میں مسلمان بہن بھائی بستے ہیں مگر پڑوسی ہونے کے ناطے اپنی سرزمین کسی کواستعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔