IMF مشن نے مالیاتی یادداشتوں کا پہلا مسودہ پاکستانی حکام کو دیدیا

03 اکتوبر ، 2026

اسلام آباد (مہتاب حیدر) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جائزہ مشن نے پاکستانی حکام کے ساتھ مالیاتی و اقتصادی پالیسیوں کی یادداشت (ایم ای ایف پی) کا پہلا مسودہ شیئر کردیا ہے، اب دونوں فریق اسٹاف لیول معاہدے (ایس ایل اے) پر اتفاق رائے کے لیے مذاکرات کریں گے۔ پاکستان کو جون 2026ء کے اختتام تک گردشی قرضے کا ہدف پورا نہ ہونے پر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے چھوٹ لینا ہوگی۔ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ چند روز اسلام آباد میں قیام کرے گا اور امکان ہے کہ اگلے ہفتے کے وسط تک موجود رہے۔ دونوں فریق ایم ای ایف پی پر اتفاق رائے تک پہنچ گئے تو اسٹاف لیول معاہدے کی جانب پیش رفت کی جائے گی، بصورت دیگر مذاکرات ورچوئل طریقے سے جاری رہیں گے۔ ایف بی آر کا رواں مالی سال کیلئے 15,264 ارب روپے کا ٹیکس وصولی ہدف برقرار رہے گا کیونکہ ٹیکس مشینری نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مقررہ ہدف سے 27 ارب روپے زیادہ وصول کیے ہیں۔ اس مرحلے پر ایف بی آر نے اپنے سالانہ ٹیکس وصولی ہدف میں نظرثانی کی کوئی درخواست نہیں کی۔ آئی ایم ایف مشن نے جون 2026ء کے اختتام تک پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کے ہدف کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا، جو 1,675 ارب روپے رہا۔ ہدف معمولی فرق سے حاصل نہیں ہوسکا۔ حکومت نے مالی سال 2026-27ء کیلئے بجلی کے شعبے میں 830 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے۔ آئی ایم ایف نے 200 یونٹس تک بجلی کے استعمال پر کراس سبسڈی ختم کرنے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے ہدفی سبسڈی متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے، جس پر جنوری 2027ء سے عملدرآمد کیا جائے گا۔