او آئی سی کمیشن کی مقبوضہ کشمیر میں نئی حلقہ بندیوں کی مذمت

14 مئی ، 2022

اسلام آباد( نامہ نگار خصوصی )اسلامی تعاون تنظیم کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی حکومت کی طرف سے انتخابی حلقوں کو ازسرنو ترتیب دینے کیلئے حلقہ بندیوں کی غیر قانونی مشق کی شدید مذمت کی ہے، کمیشن نے ایک بیان میں حلقہ بندیوں کواو آئی سی اور سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کیساتھ ساتھ بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیااور کہا کہ ان مذموم اقدامات کا مقصد مقامی مسلم آبادی کو ان کے وطن میں اقلیت میں تبدیل کرنا اور ان کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے استعمال میں رکاوٹ ڈالنا ہے، اقدامات کشمیری عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ظاہر کرتے ہیں، جن کی ضمانت چوتھے جنیوا کنونشن سمیت انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کے تحت دی گئی ہے، کمیشن نے مودی حکومت کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپنی بار بار کی گئی اپیل کا اعادہ کیا کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیرمیں کے بارے میں سلامتی کونسل اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں کی پاسداری کرنے اور مقبوضہ وادی میں کسی بھی انتظامی اور قانون سازی کے اقدامات روکنے کرنے کیلئے کردار ادا کرے، کمیشن نے کشمیریوں کی تمام بنیادی آزادیوں کی بحالی اور مقبوضہ علاقے میں نافذتمام کالے قوانین کو منسوخ کرنے پربھی زور دیا،کمیشن نے مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کو آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنا ناقابل تنسیخ حق خود ارا دیت استعمال کرنے کی اجازت دی جائے ۔دریں اثناء وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری نے اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طٰحہ سےٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے انکو مقبوضہ جمو ں وکشمیرکی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیااور کہاکہ نام نہادحلقہ بندی کمیشن نے کشمیری عوام کے اس خوف کوسچ ثابت کردیاہے کہ بھارت کی بی جے پی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں آبادی کاتناسب تبدیل کرکے انہیں حق رائے دہی اور اختیارات سے محروم کرناچاہتی ہے اورمسلم اکثریت کواقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کررہی ہے، یہ غیرقانونی اورمضحکہ خیزکوشش سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اوربین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے ،اوآئی سی کے سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل اوراسلامی تعاون تنظیم کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے جائز مطالبہ کی جدوجہدکیلئے بھرپورتعاون کا اعادہ کیا۔