کراچی(ٹی وی رپورٹ)جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں میزبان شاہزیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلی اب تھیلے سے باہر آگئی ہے، اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو سپورٹ کرنے کیلئے اپنی ساکھ داؤ پر لگائی، آج صحافیوں سے ملاقات میں عمران خان لگی لپٹی رکھے بغیر کھل کر سامنے آگئے،پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن شہزاد اقبال نے کہا کہ عمران خان پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نظر نہیں آرہے، سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ ادارے نیوٹرل رہنا چاہتے ہیں مگر عمران خان مجبور کررہے ہیں کہ وہ ان کے حق میں غیرجانبداری ختم کرلیں،حکومت اور اداروں نے اپنی صفیں درست کرلیں، سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ عمران خان نے لڑائی بہت بڑھا دی ہے، تاریخ میں کبھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال نہیں کی گئی جیسی عمران خان استعمال کررہے ہیں۔ پروگرام کے آغاز میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف اب کھل کر پاک فوج پر الزام عائد کررہی ہے، آج صحافیوں سے ملاقات میں عمران خان لگی لپٹی رکھے بغیر کھل کر سامنے آگئے ہیں، باقاعدہ پاک فوج کی قیادت کو چارج شیٹ کردیا ہے، پاک فوج کی قیادت کا نام بھی لیا ہے، ملاقات میں پاک فوج کی قیادت کا نام لے کر تنقید کرتے رہے اور یہ بھی بتادیا کہ نیوٹرلز پر تنقید سے میری مراد پاک فوج ہی ہوتی ہے، عمران خان کے چار سالہ دور میں فوج پر الزام لگتا رہا کہ وہ حکومت کی بیساکھی بنی ہوئی ہے مگر آج عمران خان نے فوج پر اپنی حکومت کو کمزور کرنے کا الزام لگادیا ہے، وہ اسٹیبلشمنٹ پر تنقید بھی کررہے ہیں، ساتھ میں مستقبل کیلئے دھمکی بھی دے رہے ہیں، عمران خان نے واضح کردیا ہے کہ وہ فوج کو استعمال کرکے نیب کے ذریعہ اپوزیشن کا خاتمہ چاہتے تھے، فوج کے ذریعہ نیب اور عدالتوں پر دباؤ ڈال کر اپوزیشن کو سزائیں دلوانا چاہتے تھے، آج وہ دو وجوہات بتارہے ہیں مگر ماضی میں وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ فوج کے نواز شریف سے اختلافا ت ہوتے تھے اور اس کی وجہ کرپشن ہوتی تھی، میرے اختلافات نہیں ہوتے، اب اپنی حکومت کی کمزوری اور اس کے گرنے کی ذمہ داری فوج پر ڈال رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نیب کیسز اور نیب کی ریکوری کا کریڈٹ لیتے رہے اور اپنی حکومت کوا س کا کریڈٹ دیتے رہے ہیں، صرف یہی نہیں عمران خان کی کابینہ اور خود عمران خان نیب کی کارروائیوں کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں، جون 2019ء میں اس وقت کے وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے بتادیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی گرفتار ہوجائیں گے، پھر 18جولائی کو نیب نے شاہد خاقان عباسی کو گرفتار بھی کرلیا، پھر سابق وزیراعظم عمران خان نے امریکا میں شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کا کریڈٹ بھی لیا، آج عمران خان کہہ رہے ہیں کہ نیب میرے کنٹرول میں نہیں تھا، صرف یہی نہیں بلکہ اقتدار کے آخری دنوں میں پرویز الٰہی نے بھی دعویٰ کیا کہ عمران خان اپنی ہی کابینہ میں شامل وفاقی وزیر مونس الٰہی کو نیب کے ہاتھوں گرفتار کرانا چاہتے تھے، انہوں نے علیم خان کی بھی مثال دی، اس کے علاوہ میانوالی سے ایم پی اے کی بھی مثال دی جو عمران خان کی پارٹی سے تھے، اس طرح حکومت کی جانب سے نیب کو استعمال کرنے اور احتساب کے پورے عمل پر سوالات اٹھتے رہے تھے اور آج سوالات عمران خان نے فوج پر اٹھادیئے ہیں، سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ جنہوں نے باقاعدہ طور پر فیصلے دیئے سابقہ حکومت کیخلاف نواز شریف حکومت کیخلاف یا ریمارکس دیئے تو ان ریمارکس کو استعمال کر کے عمران خان نے باقاعدہ 2018ء کی الیکشن کمپین کی، انہی آصف سعید کھوسہ نے گیارہ ستمبر 2019ء کو کہا کہ ”بطور ادارہ اس تاثر کو بہت خطرناک سمجھتے ہیں کہ ملک میں جاری احتساب سیاسی انجینئرنگ ہے، اس تاثر کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ یہ عمل اپنی ساکھ نہ کھوئے۔“ اسی طرح گزشتہ برس سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق کے کیس میں یکطرفہ احتساب کی بات کی اور لکھا کہ نیب کچھ جماعتوں کے رہنماؤں سے متعلق کارروائی کرتے ہوئے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا رہا، البتہ بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کے الزام کے باوجود کارروائی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا رہا جبکہ کچھ جماعتیں جو دوسری سائیڈ پر ہیں انہیں گرفتار کیا جارہا ہے۔ یعنی کہ نیب بار بار کیسز بناتا اور گرفتاریاں کرتا رہا، شہباز شریف، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، مفتاح اسماعیل، سعد رفیق گرفتار ہوئے مگر عمران خان کی جماعت کے خلاف کیسز نہیں ہورہے تھے، مگر آج عمران خان کہہ رہے ہیں کہ اصل میں سب کو فوج کنٹرول کرتی تھی نیب کو بھی اور عدالتوں کو بھی۔ حالانکہ کچھ دن پہلے ہی عمران خان نواز شریف کے واپس آنے کی بات کرچکے ہیں اور کہہ چکے ہیں عدالتیں آزاد ہیں۔ آج مردان کے جلسے میں عمران خان نے کہا کہ شوکت ترین کو نیوٹرلز کے پاس بھیجا جو سازش روک سکتے تھے لیکن انہوں نے نہیں روکی، اس سے بھی بڑھ کر شیریں مزاری نے اسٹیبلشمنٹ پر سنگین الزامات عائد کئے، کل بھی انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی کے امریکی دورے پر سوالات اٹھا دیئے تھے، آج انہوں نے رانا ثناء اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے پیچھے خفیہ ہاتھ ہے جو عنقریب نہیں رہے گا کیونکہ نیوٹرلز کو اندازہ ہوگیا کہ امریکی سازش کامیاب بنا کر انہوں نے غلطی کی ہے، پہلے صرف سندھ ہاؤس کی بات ہوتی تھی اب اداروں کے ریسٹ ہاؤسز کی باتیں ہورہی ہیں کہ وہاں پر ہمارے منحرف اراکین رہ رہے تھے، ایک رکن کی بھی بات کی جو اقلیت میں سے تھے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان پوری کوشش کررہا ہے کہ حکومت گرنے کی ذمہ داری اس پر نہ آئے، اشارے کنایوں میں بات ہورہی تھی بلی اب تھیلے سے باہر آگئی ہے،عمران خان حکومت کی کرپشن اسکینڈلز کی ایک لمبی داستان ہے،عمران خان اور اس کے حواریوں نے عوام کی جیبوں پر ڈاکے مارے ہیں، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، حمزہ شہباز ، سعد رفیق، مفتاح اسماعیل اور میں نیب کے قیدی رہے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان کو عقل ہی نہیں کہ ہم پر الزامات کی بنیاد کیا تھی، عمران خان کو عقل ہوتی تو حکومت آج اس کے پاس ہوتی، اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو سپورٹ کرنے کیلئے اپنی ساکھ دباؤ پر لگائی، عمران خان کا پراجیکٹ 2011ء سے شروع ہوگیا تھا، ہمارے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا حکومت بھی تبدیل ہوئی لیکن ہم نے الزامات نہیں لگائے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا ہے، عمران خان کو کرپشن کرنے کیلئے فوج نے نہیں کہا تھا، عمران خان نے اپنے قریبی لوگوں کو لوٹ مار کی کھلی چھٹی دی، فوج کے آئین و قانون کی پابندی اور نیوٹرل رہنے کے فیصلے پر عمران خان کو کیوں تکلیف ہورہی ہے، اسٹیبلشمنٹ کے وینٹی لیٹر کے بغیر عمران خان کا اقتدار نہیں رہ سکتا تھا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل کا حل تمام اداروں کا اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے میں ہے، ادارے آئینی حدود میں واپس چلے جائیں تو تمام گلے شکوے ختم ہوجائیں گے، ادارے عمران خان کو سپورٹ کریں تو ان کیلئے سب ٹھیک ہیں، لیکن اگر ادارہ اپنی آئینی حدود میں واپس گیا ہے تو یہ شور مچارہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ لندن ملاقاتوں میں بنیادی موضوع معیشت رہا،ساتھ اس معاملہ پر بھی بات ہوئی، لندن میں ہم نے فیصلے نہیں کئے تجزیہ کیا ہے جو حلیفوں کے سامنے رکھیں گے، حلیف جماعتوں سے مشورہ کرکے کوئی فیصلہ کریں گے، غیریقینی اور گومگوں کی کیفیت واقعی ضرورت سے زیادہ طویل ہوگئی ہے۔
کوئٹہبلوچستان میں مشترکہ آپریشن، مزید 5 دہشت گرد ہلاک،تفصیلات کے مطابق پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور ...
اسلام آباد آڈٹ انکشافات: محکمہ ڈاک میں 63 ارب روپے کا بڑا مالیاتی تضاد سامنے آ گیا، بینک اکاؤنٹس کے غیر...
اسلام آباد آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی بحری ناکہ بندی کی اطلاعات پر خلیج میں کشیدگی، عالمی مارکیٹس شدید...
اسلام آباد 75 ارب کے ترقیاتی فنڈز کا مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں، آڈٹ نے شفافیت پر سوالات اٹھا دیے۔ کابینہ...
کراچی قطر سے ایل این جی کی فراہمی کے بعد ایل این جی کنکشن پر پابندی اٹھانے پر غور کیا جارہا ہے۔ ایل این جی...
اسلام آ باد وزیراعظم شہباز شریف پیر کے روز ایک روزہ دورہء قطر پر دوحہ پہنچے اور ریاستِ قطر کے امیر شیخ تمیم...
اسلام آباد مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل، شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے پیر کے روز وزیراعظم ہاؤس...
کراچی سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ جنگ بندی عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت...