ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ہوشربا اضافہ

اداریہ
01 جون ، 2022
پاکستان، جہاں مہنگائی کا جن کبھی قابو میں نہیں آیا ، میں ہر چیز کی قیمت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے گرد گھومتی ہے، گزشتہ ہفتے پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 30روپے فی لیٹر اضافے کے بعد جہاں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں تاجروں کی طرف سے من چاہا اضافہ دیکھنے میں آیا وہیں یکا یک انٹرا سٹی اور انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 33فیصد جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 30فیصد تک اضافہ کردیا گیا۔ پاکستان ریلوے نے بھی 20فیصد تک کرایے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام مزید بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں اکثریتی آبادی آمدو رفت کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتی ہے، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں میں بھی ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے جن کی آمدنی انتہائی قلیل ہے، قلیل آمدنی والے اس طبقہ کی تنخواہوں میں نہ صرف ایک فیصد بھی اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ انہیں وہ کم از کم 25ہزار روپے ماہانہ اجرت بھی ادا نہیں کی جارہی، جو حکومت نے خود مقرر کی ہے۔ روز افزوں مہنگائی کی وجہ سے غریب اور تنخواہ دار طبقہ پس کر رہ گیا ہے۔ حکومت کو احساس ہونا چاہیے کہ پیٹرولیم مصنوعات سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے کی وجہ سے پاکستان کے غریب عوام کیلئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اوپر سے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے عوام کی زندگی اجیرن بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی، ایسے میں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان منافع خور عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں سمیت اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں من چاہے اضافے پر قابو پائے۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998