پی ٹی آئی کے کسی رہنما کیخلاف جھوٹا مقدمہ نہیں بنائینگے، رانا ثناء

07 جون ، 2022

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان نے پورے ملک میں افراتفری اور لاقانونیت کی مہم چلا کر جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، پی ٹی آئی کے کسی رہنما کیخلاف جھوٹا مقدمہ نہیں بنائیں گے، میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو پوری مسلم دنیا کے غم و غصہ، مذمت اور دباؤ کا سامنا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان نے پورے ملک میں افراتفری اور لاقانونیت کی مہم چلا کر جرم کے مرتکب ہوئے ہیں،عمران خان نے قوم کو تقسیم اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کیلئے تقاریر کی ہیں، عمران خان لشکر کے ساتھ وفاق پر چڑھائی کرنا چاہتے ہیں، عمران خان نے لانگ مارچ کیلئے خیبرپختونخوا کے وسائل استعمال کیے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے حلف کی خلاف ورزی کی، اس جرم کی پاداش میں ان کیخلاف مقدمات امن وا مان کی صورتحال سے متعلق ہیں، اگر یہ مقدمہ چلتا ہے تو ہمارے پاس ان کی منصوبہ بندی کے تمام ثبوت موجود ہیں۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عدالت ہمارا موقف درست کر کے عمران خان کی ضمانت کے احکامات واپس لیتی ہے تو ہم کیوں نہ انہیں گرفتار کریں، عمران خان کیخلاف جس مقدمہ کیلئے ہم نے کابینہ سے اجازت مانگی اس کے حقائق اور ثبوت پر بھی مجھے کوئی شک نہیں ہے، عمران خان نے مسلح جتھہ لے کر وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی، اسلام آباد میں چڑھائی گئی اس میں ہمیں کیا ثابت کرنا ہے،اس مقدمہ میں عمران خان کو عدالت میں پیش کیا جانا چاہئے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان کو پتا تھا سامنے ٹکر کی طاقت ہے اسی لیے اسلام آباد سے واپس چلا گیا، عمران خان ڈی چوک کی طرف بڑھنے کی پوزیشن میں ہوتا تو وہ آگے بڑھتا،ایک ملزم کو گرفتار کرنا ریڈ لائن کراس کرنا کیسے ہوگیا، انارکی پھیلانے والے مجرم کو گرفتار کرنا امن اور انصاف ہے، عمران خان کے گرفتار ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے کسی کارکن یا رہنما نے خودکشی یا خودکش حملہ کیا تو میں ذمہ دار ہوں گا۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو پوری مسلم دنیا کے غم و غصہ، مذمت اور دباؤ کا سامنا ہے، گزشتہ دنوں بھارت میں ایسا افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ پیش آیا جسے مسلم ممالک نے ریڈ لائن کے طور پر لیتے ہوئے جارحانہ پوزیشن لے لی ہے، وہ مسلم ممالک جو ایک دوسرے کے حریف بھی سمجھے جاتے ہیں اور بھارت کے قریب سمجھے جاتے ہیں وہ بھی مودی حکومت کی مذمت کررہے ہیں جس کی وجہ سے بھارت ابھی شدید دباؤ میں ہے، اسی دباؤ کی وجہ سے غیرمعمولی طور پر بھارتی جنتا پارٹی دفاعی پوزیشن میں آگئی ہے اور معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کررہی ہے لیکن ابھی تک خود نریندر مودی نے اس معاملہ کی مذمت نہیں کی ہے۔ شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد عرب ممالک میں سوشل میڈیا پر بھارتی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کرنے کی مہم شروع ہوگئی جس میں بھارت کیخلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا، قطر او ر کویت کی طرف سے بھارتی سفیروں کو طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کروایا گیا، عرب ممالک کی مذمت کے بعد بھارت پر دباؤ پڑا اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے دونوں رہنماؤں کیخلاف ایکشن لیتے ہوئے انہیں نوٹسز جاری کیے، بی جے پی نے نوپورشرما کو معطل کرتے ہوئے اس سے ذمہ داریاں واپس لے لیں، بی جے پی نے اپنے میڈیا ونگ کے سربراہ نوین جندال کو بھی پارٹی سے نکال دیا ہے، مگر کئی ممالک بھارتی حکومت سے عوامی معافی کا مطالبہ کررہے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ خلیج تعاون کونسل جس میں کویت، قطر، سعودی عرب، بحرین، عمان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں اس کی بھارت کے ساتھ 2020-21ء میں تجارت 90ارب ڈالرز رہی ہے، اس کے علاوہ بھارت کے لاکھوں شہری ان ممالک میں کام کرتے ہیں اور اربوں ڈالرز کی ترسیلات زر وطن واپس بھیجتے ہیں، یہ خطہ انڈیا کی توانائی کی درآمدات کا بھی سب سے بڑا ذریعہ ہے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بھارت کے ساتھ تعلقات میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ایٹمی پروگرام اور پاک فوج سے متعلق انٹرویو کیخلاف قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کردی گئی ہے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور ڈپٹی چیئرمین نیشنل کمانڈ اتھارٹی جنرل ندیم رضا نے کہا ہے کہ قومی اسٹریٹجک پروگرام پر بے بنیاد اور غیرضروری تبصرے سے ہر صورت گریز کیا جائے، سول اور ملٹری قیادت اس اسٹریٹجک پروگرام کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔دوسری طرف ایک بڑے پراپرٹی ٹائیکون اور ان کی بیٹی کی مبینہ آڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں پراپرٹی ٹائیکون کی بیٹی اپنے والد کو بتارہی ہیں کہ خاتون اول نے ہیرے کی تین قیراط کی انگوٹھی قبول کرنے سے منع کردیا ہے۔