دعا زہرا کو دارالامان بھیجنے اور میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا حکم

07 جون ، 2022

کراچی (جنگ نیوز) سندھ ہائیکورٹ نے چشتیاں سے بازیاب کرائی گئی دعا زہرہ کی عمر کے تعین کیلیے میڈیکل کرانے کا حکم دیتے ہوئے لڑکی کو شیلٹر ہوم بھیجنے کی ہدایت کر دی۔دعا زہرہ اور اسکے شوہر ظہیر کو انتہائی سخت سیکورٹی میں سندھ ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا، اس موقع پر دعا زہرہ کے والدین نے بیٹی سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تاہم پولیس نے دعا زہرہ کے والدین کو بیٹی سے ملوانے سے انکار کر دیا۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات پر دعا زہرہ کو پیش کر دیا گیا ہے، جس پر جسٹس جنید غفار نے استفسار کیا کہ 10 جون کو کیس لگا ہوا ہے، آپ آج کیوں آئے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ عدالتی حکم تھا جیسے ہی دعا بازیاب ہو پیش کیا جائے جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی 10 جون کو دعا کو طلب کیا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ لڑکی اپنی مرضی سے صوبہ چھوڑ کر گئی اور اس نے پنجاب جا کر شادی کی۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ لاہور میں کیا کیس ہے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ میں لڑکے کے والدین نے ہراساں کرنیکی درخواست دائر کی ہے، اس صوبے میں کوئی جرم نہیں ہوا، وہاں شادی ہوئی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ بچی اپنی مرضی سے گئی ہے یہاں کوئی جرم نہیں ہوا، عدالت نے استفسار کیا کہ یہاں لڑکی کے اغوا کا کیس نہیں ہے کیا؟لڑکی کے والد کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ لڑکی کے اغواکا مقدمہ درج ہے، لڑکی کی عمر کم ہے اس لیے اغوا کا مقدمہ درج کرایا ہوا ہے، دعا کے برتھ سرٹیفیکیٹ میں تاریخ پیدائش27 اپریل2008 درج ہے، اس وقت دعا کی عمر 14 سال اور کچھ دن ہے۔جسٹس جنید غفار نے ریمارکس دیے کہ ابھی لڑکی بیان دیگی تو اغوا کا مقدمہ ختم ہو جائے گا۔دعا زہرہ نے عدالت میں بتایا کہ میرا نام دعا زہرہ اور والد کا نام مہدی کاظمی ہے، عمر 18 سال ہے اور اپنے شوہر ظہیر کے ساتھ رہتی ہوں۔سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ آپ کے والد نے کہا ہے کہ ظہیر نے آپ کو زبردستی اغوا کیا؟ جس پر دعا نے بتایا کہ نہیں مجھے اغوا نہیں کیا گیا۔جسٹس جنید غفار نے ریمارکس دیے کہ بچی ہمارے سامنے کھڑی ہے وہ خود کہہ رہی ہے کہ اغوا نہیں کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ والدین کھڑے ہیں اور پریشان ہیں مگر ہم نے قانون کو دیکھنا ہے، اگر لڑکی ملنا نہیں چاہتی تو ہم کیسے زبردستی کر سکتےہیں۔سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرہ کی عمر کے تعین کیلیے 2 روز میں طبی ٹیسٹ کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی اور لڑکی کو شیلٹر ہوم بھیجنے کی ہدایت کر دی۔