وفاقی بجٹ اور معاشی چیلنج

اداریہ
12 جون ، 2022

موجودہ وفاقی حکومت نے جیسے سنگین معاشی حالات میں اقتدار سنبھالا ان میں کسی فوری بہتری کا مطالبہ کرنا یقینا معقول رویہ نہیں لیکن معاملات کی سمت درست کرنے کی ذمے داری بہرحال اس پر عائد ہوتی ہے جس کے سوا اس کے قیام کا کوئی جوازقابل فہم نہیں۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ پیش کرتے ہوئے یہی موقف اپنایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پونے چار سال کے دوران ہر سال معاشی پالیسی بدل جاتی رہی جس سے سرمایہ کاروں اور عالمی اداروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی۔ آئی ایم ایف کا پروگرام معطل ہوگیااور وہ بنیادی اصلاحات جو 2019میں ہونی تھیں اب تک نہیں ہوئیں۔وزیر خزانہ نے اس حقیقت کی نشان دہی کی کہ معیشت کے ڈھانچہ جاتی بگاڑ کو درست کرنے کیلئے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے جس کا ایک فوری منفی رد عمل بھی متوقع ہوتا ہے مگر اس سے معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوجاتی ہے اور موجودہ حکومت یہی کچھ کررہی ہے ۔ نئے بجٹ کو وزیر خزانہ کے دیے ہوئے اسی معیارپر پرکھا جانا چاہیے۔ قومی معیشت کی ابتری کے اسباب مقامی بھی ہیں اور کورونا کے بعد روس یوکرین تنازع جیسے بین الاقوامی بھی جس نے پیٹرول کے بحران کو جنم دیا جبکہ قرضوں کے شکنجے نے ہماری ترقیاتی سرگرمیوں کی راہ تقریباً مسدود کررکھی ہے۔ ان تمام نامساعد اسباب کے باوجود بظاہر ایک متوازن اور عوام دوست بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بجٹ کا مجموعی حجم 9502 ارب روپے ہے جس میں 3798ارب کا خسارہ دکھایا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم نجی اداروں کے ملازمین بھی یکساں مسائل اور مشکلات سے دوچار ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ہوش ربا مہنگائی کے پیش نظر ان کی آمدنیوں میں بھی فوری طور پر معقول اضافہ یقینی بنایا جائے۔ موبائل فون اور بڑی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے اور زرعی آلات، بیجوں ، سولر پینل اور 30 ضروری ادویات پر ٹیکس ختم کرنے کی تجاویز سے دولت مند طبقات سے وسائل حاصل کرکے کم آمدنی والوں کو ریلیف کی فراہمی ،زرعی ترقی اور بجلی بحران پر قابو پانے کے امکانات بہتر ہوں گے ۔ انکم ٹیکس کی چھوٹ کی حد 6لاکھ روپے سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے کیا جانا بھی کم آمدنی والے طبقوں کیلئے خوشگوار اقدام ہے۔ نان فائیلرز کیلئے جائیداد کی خریداری پر 5فی صد اضافی ٹیکس سے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کی تعداد میں اضافے کی توقع کی جاسکتی ہے۔بچت اسکیموں کے منافع پر ٹیکس کی شرح نصف کرکے قومی سطح پر بچت کی حوصلہ افزائی یقینا مستحسن ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کیلئے109 ارب اور 24ارب روپے کی رقم اگرچہ بہت ناکافی ہے لیکن وسائل کی قلت کا عذر بہرحال حقیقت ہے ۔سنیما گھروں اور فلموں کیلئے غیر معمولی مراعات موجودہ مشکل معاشی حالات میں کیوں ضروری سمجھی گئیں‘ یہ بات وضاحت طلب ہے۔ اس طرح ملک کی برآمداتی آمدنی میں کوئی معقول اضافہ ممکن ہو تب ہی اس کا جوازبنتاہے تاہم ہماری فلمی صنعت کا اخلاقی بے راہ روی کے بجائے ہماری اعلیٰ اخلاقی معیارات کا عکاس بنایا جانا حکومت کا فرض ہے ۔دفاعی اخراجات کو ناگزیر ضروریات تک محدود رکھنا اور فوج کی جانب سے مختلف مدات میں ملنے والی رقوم میں سے بچت کرکے ساڑھے آٹھ ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرانا وقت کے تقاضے کے ادراک کی اچھی مثال ہے ۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ پاناما ‘پینڈورا لیکس اور سوئس اکاؤنٹس جیسے اسیکنڈل جن میں تقریباً دو ہزار پاکستانی شہریوں نے چار پانچ سو ارب ڈالر قومی وسائل کو لوٹ کر بیرون ملک جمع کرارکھے ہیں ان رقوم کی واپسی کی کوئی بات اب کیوں نہیں ہوتی جبکہ ان کا دسواں حصہ بھی قومی خزانے میں واپس لے آیا جائے تو ہم معاشی بحران سے بآسانی نجات پاسکتے ہیں۔