پاکستانی شاہین ویسٹ انڈیز کے خلاف کلین سوئپ کیلئے تیار، سیریز میں دو صفر کی برتری

12 جون ، 2022

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تیسرا اور آخری ون ڈے انٹر نیشنل اتوار کو ملتان میں کھیلا جائے گا۔میزبان ٹیم کو سیریز میں دو صفر کی برتری حاصل ہے اور بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان سیریز کو تین صفر سے جیتنے کے لئے فیورٹ ہے۔پاکستانی ٹیم نے اگرچہ آئی سی سی ورلڈ کپ سپر لیگ میں پانچ میں سے یہ چوتھی سیریز جیتی ہے لیکن پچھلی جیتی گئی تینوں سیریز میں اس نے ایک ایک میچ بھی گنوایا ہے، لہذا اب بابر اعظم کی کوشش ہوگی کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف کلین سویپ کر کے پورے 30 پوائنٹس حاصل کرلیے جائیں۔یہ دو میچز جیت کر پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے ساتھ سپر لیگ میں چوتھے نمبر پر آگئی ہے دونوں کے80 پوائنٹس ہیں۔اس سیریز کے بعد سپر لیگ میں پاکستانی ٹیم کو ہالینڈ، نیوزی لینڈ اور افغانستان کے خلاف سیریز کھیلنی ہیں اور بابر اعظم کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ سپر لیگ میں شامل 13 ٹیموں میں سے 8ہی نے اگلے سال بھارت میں براہ راست ورلڈ کپ میں جگہ بنانی ہے۔پاکستان نے لگاتار 10ویں سیریز میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی ہے اور ویسٹ انڈیز 31 سال سے پاکستان کے خلاف کوئی سیریز نہیں جیت سکی ہے۔پاکستا ن نے پہلا ون ڈے پانچ وکٹ سے جیتا تھا۔ہفتے کو دونوں ٹیموں نے آرام کو ترجیح دی۔بابر اعظم کا کہنا ہے کہ دوسرے ون ڈے کی پچ ڈبل پیس تھی۔شروع میں گیند بیٹ پر اچھی نہیں آ رہی تھی ۔میرے خیال سے دس سے پندرہ رنز کم بنے تھے۔بیک ٹو بیک وکٹیں گرنے کی وجہ سے خوشدل کو روک لیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میرا اور امام کا لمبی پارٹنر شپ کا ارادہ تھا ، لیکن وہ بدقسمتی سے وہ آؤٹ ہوگئے۔ابتدائی دس اوورز میں اچھی بولنگ نہیں کروا سکے تھےآخری اوورز میں غیر معمولی بولنگ کی نواز اور وسیم کے اسپیل غیر معمولی تھے۔واضع رہے کہ پہلے میچ میں بابراعظم نے بھی امام الحق کی طرح لگاتار پانچویں ون ڈے میچ میں پچاس یا زائد کی اننگز کھیلی لیکن سب سے اہم بات یہ کہ انھوں نے ان پانچ اننگز میں چوتھی مرتبہ اپنے سکور کو تین ہندسوں میں منتقل کرکے ایک بار پھر اپنی کلاس ثابت کردی۔ یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کی مجموعی طور پر17 ویں سنچری تھی۔بابر اعظم دنیا کے پہلے بیٹسمین بھی بنے ہیں جنھوں نے دو مرتبہ لگاتار تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں سنچریاں بنائی ہیں۔پاکستانی اننگز میں اس وقت ڈرامائی موڑ آیا جب پہلے بابراعظم 103 رنز اور پھر محمد رضوان 59 رنز بناکر بناکر آؤٹ ہوئے اور میچ کا جھکاؤ ویسٹ انڈیز کی طرف ہوگیا۔خوشدل شاہ تھے جنھوں نے چار چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 41 رنز ناٹ آؤٹ کی میچ وننگ اننگز کھیلی۔بابر اعظم نے اپنا مین آف دی میچ ایوارڈ خوشدل شاہ کو دے دیا۔پاکستان نے دوسرے میچ میں ویسٹ انڈیز کو120رنز سے آؤٹ کلاس کردیا۔بابراعظم اور امام الحق کریز پر تھے۔ دونوں کی 120 رنز کی شراکت امام الحق کے 72 رنز پر رنزآؤٹ ہونے پر ٹوٹی۔کپتان بابراعظم بھی خود کو تین ہندسوں کی اننگز کی طرف نہ لے جاسکے اور 77 رنز پر عقیل حسین کو انہی کی گیند پر کیچ دے گئے۔