پنجاب اورخیبرپختونخواکےبجٹ آج پیش کیےجائیں گے

13 جون ، 2022

لاہور،پشاور(نمائندہ خصوصی،جنرل رپورٹر، نمائندہ جنگ)پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بجٹ آج پیش کیے جائیں گے، پنجاب کابجٹ ٹیکس فری، KP سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافےکاامکان ہے، اویس لغاری پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے، وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا وزیر خزانہ کی عدم موجودگی کے باعث اویس لغاری اسمبلی میں محکمہ خزانہ سے متعلقہ امور سرانجام دیں گے۔ علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی کے بجٹ سیشن کے دوران قانون اور پارلیمانی امور کی انجام دہی کیلئے صوبائی وزیر ملک محمد احمد خان کو ذمہ داریاں تفویض کرنےکانوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔پنجاب اسمبلی کا مالی سال 23-2022کا بجٹ اجلاس سپیکر چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت آج دوپہر 2 بجے شروع ہوگا۔ہے۔ادھر وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ عوام دوست ہوگا، صوبائی بجٹ وفاقی طرز کا ہو گا، بجٹ میں مہنگائی پر کنٹرول کے لیے خصوصی امدادی پیکج متعارف کروایا جارہا ہے، عوام کی قوت خرید میں اضافے کے لیے اشیاء خورونوش کی قیمتیں کنٹرول کی جائیں گی، لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے توانائی کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کم وسیلہ افراد کو بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں خصوصی رعایت دی جائے گی، پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا، صوبائی محصولات میں دی گئی رعایت برقرار رکھی جائے گی، آٹے کی کم قیمت پر دستیابی سے متعلق سہولت پیکج آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھا جائے گا، پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ بلحاط حجم پہلے سے بہتر ہو گا، بجٹ کا بڑا حصہ ترقیاتی مقاصد کے حصول پر خرچ کیا جائے گا، پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت کی اولین ترجیح سماجی شعبہ کی ترقی اور معیشت کی بحالی ہو گی۔حمزہ شہباز نے کہا کہ بجٹ 2022-23 میں تعلیم، صحت، زراعت، مواصلات کے میدان میں کئی اہم اقدامات متعارف کروائے جارہے ہیں، آئندہ بجٹ میں پائیدار ترقیاتی مقاصد کے حصول کے لیے ضلعی سطح پر عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے گا، پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ متوازن اور عوام دوست ہو گا، پنجاب کا آئندہ بجٹ سرکاری ملازمین اور دیہاڑی دار طبقہ دونوں کے لیے خوشخبری لائے گا۔دوسری جانب خیبر پختونخوا کےنئےمالی سال کیلئے 1330 ارب سے زائد کے بجٹ میںسالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئےتقریباً 370ارب مختص ہوں گے جس میں صوبہ کے بندوبستی اضلاع کیلئے180ارب اور ڈسٹرکٹ ترقیاتی پروگرام کیلئے35ارب روپے شامل ہوں گے ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں15فیصد سے زیادہ اضافہ کا امکان ہے، بجٹ میں قبائلی اضلاع کیلئے222ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، نئے مالی سال کے دوران تنخواہوں کی مد میں440اور پنشن کی مد میں 105ارب خرچ ہوں گے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست پر قائمقام گورنر مشتاق احمد غنی نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر 3بجے طلب کرلیا ہے جس میں صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم نئے مالی سال2022-23کا میزانیہ پیش کرینگے۔