سندھ حکومت اور صوبے کی تمام اپوزیشن جماعتوں کی بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی سفارش، ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا

21 جون ، 2022

کراچی(نمائندہ جنگ) سندھ حکومت سمیت صوبے کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کے مطابق انتخابات سے قبل بلدیاتی قوانین میں ترامیم لازمی ہونی چاہئیے ، عدالت عالیہ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے آگاہ کرنے پر الیکشن کمیشن کو 23 جون کے لیئے نوٹس جاری کر دیئے۔پیر کو جسٹس جنید غفار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بلدیاتی انتخابات کے لیئے شیڈول کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی کی دائر درخواست پر سماعت کی اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے وکیل پیش ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیئے ضروری ترامیم کرنے کا حکم دے چکی ہے اور اس وقت نافذ العمل بلدیاتی ایکٹ کے مطابق اگر انتخابات ہوتے ہیں تو منتخب ہونے والوں کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہونگے جبکہ عدالتی احکامات کی بھی خلاف ورزی ہوگی یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں بھی انتخابات سے قبل ترامیم کرانے پر رضا مند ہیں۔ قبل ازیں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عالیہ کے روبرو رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے ممبرز پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر پارلیمنٹری افیئرز سندھ مکیش کمار چاولہ ، ایم پی اے غلام قادر چانڈیو، ایم پی اے محمد قاسم سومرو ، ایم پی اے ممتاز حسین خان جاکھرانی ، ایم پی اے ندا کھوڑو ، پی ٹی آئی کے ایم پی اے فردوس شمیم نقوی اور خرم شیر زمان ، متحدہ قومی موومنٹ کے ایم پی اے خواجہ اظہار الحسن ، جماعت اسلامی کے ایم پی اے سید عبدالرشید ، ٹی ایل پی کے ایم پی اے سمیت مرتضیٰ وہاب بھی بطور مشیر وزیر اعلیٰ بھی شریک ہوئے، کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارشات دیں ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے قبل ترامیم کی جائیں کمیٹی نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے توسط سے سندھ ہائی کورٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ یہ ہماری سفارشات ہیں کہ انتخابات سے قبل ترامیم ہونی چاہیئے۔ مذکورہ سفارشات کی نقول فریقین کو فراہم کرتے ہوئے جسٹس جنید غفار نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کو سن لیتے ہیں الیکشن کمیشن کو تو نوٹس ہی نہیں ہوئے حالانکہ الیکشن کمیشن کا اہم کردار ہے۔ الیکشن سے متعلق طریقہ کار تو بہت آگے بڑھ چکا ہے متحدہ کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے قانون کو بھی دیکھ لیا جائے۔ حلقہ بندیوں کی کمیٹی نے بھی اختیارات سے تجاوز کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ فیصلہ آپ لوگوں نے تاخیر سے کیوں کیا؟ اتنی تاخیر سے منٹس کیوں آئے؟ جسٹس جنید غفار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل طریقہ کار تو اپریل سے چل رہا ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن، سندھ حکومت کو 23 جون کے لیے نوٹس جاری کردیئے۔