کراچی سیوریج سسٹم سے محروم

اداریہ
21 جون ، 2022

ملک کا سب سے بڑا شہر، اقتصادی مرکز اور صوبائی دارالحکومت ہونے کے باوجود کراچی میں بنیادی شہری سہولتوں کا فقدان مقامی و صوبائی حکومتوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کم و بیش تین کروڑ آبادی والے اس شہر میں کوڑے کرکٹ کے انبار، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں،بے ہنگم ٹریفک اور بجلی کے ناقص نظام جیسے مسائل کا کیا ذکر، ایک مدت سے یہاں سیوریج کا کوئی باقاعدہ سسٹم بھی موجود نہیں جوہر سال بارشوں میں شہر کے متعدد علاقوں کے ڈوب جانے کی بنیادی وجہ ہے۔ایک حالیہ جائزے کے مطابق شہر کے تینوںسیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ گزشتہ پندرہ سال سے بند ہیں چنانچہ یومیہ ساڑھے چار سو ملین گیلن فضلہ کسی ٹریٹمنٹ پلانٹ سے گزر کر سمندر میں جانے کے بجائے شہر کے ساڑھے پانچ سو چھوٹے بڑے برساتی نالوں میں جاتا ہے اور بارشوں میں نالے بند ہونے کی وجہ سے نشیبی آبادیاں سیوریج کی غلاظت سمیت پانی میں ڈوب جاتی ہیں۔ سائٹ اور ماری پورکے پلانٹ جو تھوڑا بہت سیوریج ٹریٹ کرتے تھے وہ بھی چند سال پہلے بحالی کے نام پر اکھاڑے جاچکے ہیں۔ تاہم جو پمپ بند ہیں اگر وہی چلتے رہتے تو کم ازکم صفائی کے بغیر ہی پانی سمندر میں چلا جاتا اور نالوں میں پانی کی سطح کم رہتی لیکن اس کا بھی کوئی بندوبست نہیں حالانکہ کراچی میں سیوریج کے تمام گندے پانی کو صاف کر کے سمندر میں پھینکنے کیلئے چند سال قبل کے فور منصوبے کے ساتھ اربوں روپے کا ایس تھری پروجیکٹ بھی حکومت نے تیار کیا تھا جس کے تحت موجودہ ٹریٹمنٹ پلانٹس کی بحالی اور ملیر ندی پر کورنگی میں ایک نیا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا جانا تھا ۔ بہرکیف اب ایک بار پھر مون سون کی آمد ہے اور شہری اپنی بستیوں کے سیوریج کی غلاظت میں ڈوب جانے اور یوں اپنے گھربار کی مکمل تباہی کے خوف میں مبتلا ہیں لہٰذا متعلقہ اداروں کو کم از کم برساتی نالوں کی جنگی بنیادوں پر صفائی کا فوری اہتمام کرنا چاہئے تاکہ صورتحال کو ممکنہ حد تک قابو میں رکھا جاسکے۔