سندھ کا مقدمہ

مظہر برلاس
21 جون ، 2022
(گزشتہ سے پیوستہ)
ضلع بدین میں گولاڑچی شہر سے سولہ کلومیٹر دور جس قلعے انڑکوٹ کی بات کی گئی ہے تاریخ اسے کھیریوں کوٹ کا نام بھی دیتی ہے بلکہ اس حوالے سے ایک لوک کہانی مشہور ہے ’’چھتو اور کھیریں‘‘کی کہانی ۔ صدیوں پہلے راٹھور قبیلہ کی ایک خوبصورت لڑکی کھیریں کی شرط تھی کہ وہ شادی اس سے کرے گی جو یہاں قلعہ بنائے گا۔ ایک نوجوان چھتو نے یہ شرط قبول کرلی، قلعے کی تعمیر اس کی زندگی کھا گئی، کھیریں بھی قبر کے سپرد ہوگئی اس لئے مشہور سندھی کہاوت ہے کہ ’’چھتو گاڑھو گھوٹ اڈیندے اچھوتھیو...‘‘ یعنی چھتو جوان دلہا تھا، قلعے کی تعمیر کرتے کرتے اسکے بالوں میں سفیدی اتر آئی۔ جام انڑ سموں کا سندھ پر راج تو ساڑھے تین برس کا ہے مگر وہ تین سو برس تک رہنے والی سمہ سلطنت کا بانی مانا جاتا ہے کیونکہ اس نے اسی قلعے سے بیٹھ کر سومروں کے آخری بادشاہ عمیر کو شکست دی، عمیر کے اہم ساتھی جسوتن آگریو کو قتل کردیا گیا۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں جسوتن آگریو کا تذکرہ کیا ہے۔ اس علاقے میں جام انڑ کی گھوڑی اور کتے کا قصہ بھی مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چوروں کا ایک گروہ جام انڑ کی گھوڑی چرانے آیا مگر جام انڑ کا وفادار کتا اس چوری میں بڑی رکاوٹ بن گیا۔ چوروں نے گھوڑی اور کتے کو مار دیا، کچھ چور جام نے بھی مار ڈالے۔ جام نے گھوڑی اور کتے کو زمین کے حوالے کیا اور ایک یادگار بنوائی۔ یہ یادگار کتا ماڑی کے نام سے مشہور ہے۔ اس قلعے کے جنوب میں ’’ماڑی وسابو‘‘کے آثار ملتے ہیں۔ یہ آثار سندھ پر عربوں کے حملے کے وقت راجہ داہر کا ساتھ چھوڑ کر محمد بن قاسم سے جا ملنے والے موکہ بن بسایہ کے شہر کے ہیں ان جگہوں پر سندھ حکومت توجہ دے تو یہاں ایک بڑا سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔ بدین دریائے سندھ کےمشرق میں ہے اگرچہ یہاں چاول، ٹماٹر، گندم اور سورج مکھی بھی کاشت ہوتی ہے مگر سب سے زیادہ گنا کاشت ہوتا ہے اسی لئے تو یہ شوگر اسٹیٹ ہے۔ یہاں چھ شوگر ملیں ہیں ان میں مرزا شوگر مل، انصاری شوگر مل، باوانی شوگر مل، پنگریو شوگر مل، دیوان کوکسکی شوگر مل اور آرمی ویلفیئر شوگر مل شامل ہیں۔ یہاں تیس کے قریب رائس ملیں ہیں۔ ضلع بدین زراعت پر مشتمل ہے۔ اس ضلع میں سڑک اور ریل کا بہترین نظام ہے۔ بدین ہی میں چند آئل فیلڈز بھی ہیں کیونکہ پاکستان میں آئل کی کل پیداوار کا پچاس فیصد یہاں ہے۔ یہاں دنیا کا سب سے بڑا نمک کا صحرا ہے۔ جو رن آف کچھ سے لیکر بدین تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں کے مشہور قبائل ہالے پوتا اور ہنگورا ہیں۔ یہ دونوں راجپوت سندھی قبائل ہیں۔ بدین شہر میں کڑھائی کے شاندار مراکز ہیں۔ مارچ سے اکتوبرتک سمندری ہوائوں میں نمی زیادہ ہوتی ہے یہاں کا موسم معتدل ہے۔ نامور سندھی صوفی بزرگ سید سمن شاہ کا مزار یہیں ہے جہاں روزانہ سینکڑوں عقیدت مند آتے ہیں۔
بدین میں تیل، گیس اور کوئلے کے وسائل ہیں۔ یہ شہر سندھ کی تاریخ جتنا پرانا ہے۔ بدین ماضی میں بہت اہم رہا ہے۔ مورخین کے مطابق مرزا عیسیٰ کے دو بیٹوں مرزا صالح، اور مرزا باقی کے درمیان 970ء میں سرزمین بدین پر جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں مرزا باقی بیگ کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد بکھر والے سلطان محمود نے تو مرزا باقی بیگ کی مدد نہ کی مگر بدین کے رہائشی سورما مرید جت نے فاتح مرزا صالح کو تلوار سے پاش پاش کردیا۔ اس طرح مرزا باقی بیگ کی بدین پر حکمرانی قائم ہوگئی۔ مرزا باقی بیگ کی وفات کے بعد مرزا جانی بیگ حکمران بنا۔ بدین کو ’’لاڑ کا دل‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بندرگاہوں کا دیس ہے۔ یہاں تجارت خوب ہوتی رہی ہے۔ سکندراعظم کی فوجوں نے یہاں قدم جمانے کی کوشش کی تھی مگر بدین کی جت اور ملاح قوم کے بہادروں نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔ 1870ء میں مدد خان پٹھان نےبدین کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سندھ کے کئی بہادر حکمرانوں کا تعلق ضلع بدین کے علاقوں سے تھا۔ تحصیل فاضل راہو میں ماڑی وسابو اور پٹیل سے ملحقہ مسلمان آبادی اور مسجد کے آثار تاریخ خود بیان کرتے ہیں۔ آسیلی کی مسجد کے دروازے پر جو سکے کندہ ہیں وہ محمد شاہ رنگیلا کے عہد کے ہیں۔ یہاں کے پٹیل دریا اور پران ندی کا ذکر تو شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ نے بھی کیا ہے۔ضلع بدین کے قصبے گلاب لغاری سے دو کلومیٹر دور ضلع ٹنڈو اللہ یار اور ضلع بدین کے سنگم پر ’’اگھا مانو‘‘ ہے یعنی اگھم کوٹ کا تاریخی مینار ۔اگھم کوٹ بہت قدیمی اور تاریخی مقام ہے مگر حکومت کی توجہ سے محروم ہے۔ راجہ اگھم لوہانو سمیت کئی تاریخی حقائق اگھم کوٹ سے ملتے ہیں یہاں قلعہ بھی ہے۔سندھ کے نامور محقق، ادیب، شاعر، افسانہ نگار اور سندھی زبان کے ماہر ڈاکٹر عبدالجبار جونیجو بدین کے رہنے والےتھے۔ اسی طرح سندھی زبان کے نامور شاعر، صحافی، ڈرامہ نگار اور سندھی ادبی بورڈ کے جریدے مہران کے ایڈیٹر رہنے والے شمشیر الحیدری بھی بدین کے باسی تھے۔ آزادی کے لئے لڑنے والی انقلابی رہنما مائی بختاور لاشاری شہید ضلع بدین کی تحصیل ٹنڈو باگو کے گائوں دودوخان سرکانی میں پیدا ہوئیں۔ تنزیلہ قمبرانی سندھ اسمبلی کی رکن ہیں۔ بدین سے تعلق رکھنے والی تنزیلہ قمبرانی شیدی قبائل کی پہلی خاتون ہیں جو ممبر سندھ اسمبلی بنی ہیں۔ شیدی لوگ مشرقی افریقی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ صدیوں پہلے افریقہ سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔
بدین سے دو سیاسی جوڑیاں مشہورہیں۔ پاکستان میں پہلی خاتون اسپیکر قومی اسمبلی کا اعزاز پانے والی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور انکے شوہر سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے بہت شہرت پائی۔ انکے صاحبزادے حسنین مرزا بھی سندھ اسمبلی کے رکن ہیں۔ دوسری جوڑی سید علی بخش شاہ المعروف پپو شاہ اور انکی اہلیہ یاسمین شاہ ہیں۔ پپو شاہ ایم پی اے رہے ہیں جبکہ یاسمین شاہ سینیٹر رہیں۔
قارئین کرام ! میں نے کوشش کی ہے کہ آپ کو سندھ سے متعارف کروا سکوں، سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں، وہاں کی داستانوں، اشیاء، شخصیات اور کہانیوں کو آپ کے سامنے رکھ سکوں۔ میں نے کوشش کی کہ سندھ کی عظیم دھرتی کی تہذیب و ثقافت، تاریخ اور ادب کو آپ کے سامنے پیش کروں، اس پورے مقدمے میں کچھ مسائل کی نشاندہی بھی کی، کچھ تجاویز بھی دی ہیں۔ ایک بات رہ گئی تھی وہ بھی کرتا چلوں کہ ون یونٹ کے خاتمے پر سندھ کی دو یونین کونسلوں ماچھکہ اور فتح پور کھروڑ یعنی اسٹیٹ آف ماچھکہ کو پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں شامل کردیا گیا تھا۔ اربابِ اقتدار اس علاقے کو سندھ کے ضلع گھوٹکی میں شامل کردیں تاکہ یہاں کے لوگوں کا دکھ درد اور احساس محرومی ختم ہوسکے۔