مختلف ملازمین تنظیموں نے صوبائی بجٹ مسترد کردیا

23 جون ، 2022

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)کوئٹہ سمیت اندرون صوبہ محکمہ مواصلات و تعمیرات ،بی اینڈ آر ایری گیشن ، ایگریکلچرل انجینئرنگ زراعت پی ایچ ای ، بی ڈی اے کیو ڈی اے محکمہ واسا کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن سمیت دیگر اضلاع کے میونسپل اداروں کے ملازمین و درجہ چہارم مزدوروں اور انکی تنظیموں کے عہدیداروں اور بلوچستان لیبر فیڈریشن میں شامل تنظیموں نے صوبائی بجٹ مسترد کردیا ، مہنگائی میں دو سو فیصد اضافہ کیا گیا تنخواہ صرف پندرہ فیصد بڑھائی گئی ۔ جبکہ کنوینس الائونس میں بھی اضافے کا اعلان نہیں کیا گیا بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدرخان زمان چیئر مین بشیر احمد سیکرٹری جنرل قاسم خان ڈپٹی سیکرٹری جنرل عبدالمعروف آزادحاجی عبدالعزیز شاہوانی محمد عمر جتک دین محمد محمد حسنی نورالدین بگٹی عابد بٹ عارف خان نچاری ملک وحید کاسی ظفر خان رند منظور احمد حبیب اللہ لانگو فضل محمد یوسفزئی میر زیب شاہوانی حاجی غلام دستگیر اور دیگر مزدور و ملازم رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان حکومت وفاق کی جانب سے اعلان کردہ ڈی آر اے الاؤنس کے بقایات جات کی ادائیگی کے حوالے بلوچستان کے ملازمین و مزدوروں کی مقروض ہے اور اس حوالے سے بار بار بلوچستان کے ملازمین کو لولی پاپ دیا جارہا ہے دیگر صوبے ڈی آر اے رننگ بیسک پر منظور کرتے ہیں بلوچستان حکومت ہر بار اس سے راہ فرار اختیار کررہی ہے بجٹ میں صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ 2017کی بنیادی تنخواہوں کے مطابق ،پنشن میں 15فیصد اضافہ اور ایڈہاک الاؤنسز وفاقی حکومت کے طرز پر ضم کیاجبکہ مزدوروں کی کم سے کم اجرت 25ہزار روپے مقرر کردی۔محکمہ صحت، پیرامیڈیکس اور ٹیکنیکل اسٹاف کاہیلتھ پروفیشنل الاؤنس اور ہیلتھ رسک الاؤنس میں 100فیصد اضافہ کیاجبکہ دوسری جانب ایسے سینکڑو ں ملازمین کیلئے کوئی پالیسی نہیں دی جو گزشتہ پچیس تا اٹھائیس سال سے ایک ہی گریڈ میں فرائض انجام دے رہے ہیں ایسے ہنر مند ٹیکنیکل ملازمین کیلئے ترقی کے دروازے گزشتہ تیس سال سے بند ہیں بلوچستان کے کئی اداروں کے مزدور اور ملازمین دو دو ماہ کی تنخواہوں پنشن اور کئی ماہ قبل ریٹائرڈ ہونیوالے ملازمین اپنی گریجویٹی کیلئے ترس گئے ہیں جبکہ کوئٹہ شہر کے اہم ادارے واسا کے ملازمین کوروان ماہ کی 22 تاریخ تک تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جا سکی ہے جس کی وجہ سے ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔