پارلیمنٹ ڈائری، بے کیف بجٹ بحث سے وفاقی وزراء کی بیزاری

23 جون ، 2022

اسلام آباد (محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) قومی اسمبلی میں جاری بے کیف بجٹ بحث سے وفاقی وزراء کی بیزاری ’’قابل فہم‘‘ ہے کہ انہیں بہت سے دیگر امور کی انجام دہی بھی کرنا ہوتی ہے حکومتی ارکان کی طبیعت کا اس اجلاس کے حو الے سے اچاٹ ہوجانا لائق تشویش ہے۔ بدھ کو اجلاس کورم کے لئے مطلوبہ تعداد میں ارکان موجود نہ ہونے کے باوجود شروع ہوا اور کسی بھی وقت ایوان میں ارکان کی حاضری واجبی سطح پر نہیں پہنچ سکی کارروائی ملتوی ہوئی تو ڈپٹی اسپیکر زاہدا کرم خان درانی سمیت ایوان میں آٹھ ارکان موجود تھے وہ پوری کارروائی کے دوران بصد حسرت ویاس خالی نشستوں پر نگاہ مرتکز کئے رہتے ہیں۔ ظہر کی اذان سنائی دیتی ہےتو ایوان میں خاموشی چھا جاتی ہے کارروائی نماز کے لئے اس خوف سے وقفے کے لئے ملتوی نہیں کی جاتی کہ مٹھی بھر ارکان بھی دوبارہ ایوان کا رخ نہیں کرینگے تو چراغوں کی روشنی جاتی رہے گی۔ قائد حزب اختلاف راجہ ریاض احمد مزے کی شے ہیں بجٹ اجلاس اور اس میں جاری بحث سے ان کی دلچسپی مایوسی میں بدل چکی ہے انہوں نے بڑے بوجھل دل کے ساتھ قائد ایوان وزیراعظم اور وفاقی وزراء کے لئے مخصوص نشستوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یاد دلایا کہ یہ سب خالی ہیں۔