سیاسی منظر نامہ ،مزید مشکل فیصلے کیا ہو سکتے ہیں، مقتدر ایوانوں میں سوال

23 جون ، 2022

اسلام آباد (طاہر خلیل) پارلیمانی راہداریوں کیساتھ مقتدر ایوانوں میں بھی سوال پوچھا جارہا ہے کہ مزید مشکل فیصلے کیا ہو سکتے ہیں جو آنیوالے چند دنوں میں فیصلہ ساز کرنیوالے ہیں جن کے بارے میں وزیر اعظم شہباز شریف قوم سے خطاب کرنیوالے ہیں ، آئی ایم ایف سے فیصلہ کن مذاکرات کا مرحلہ آن پہنچاہے، آئی ایم ایف مزید ٹیکس لگانے کی بات کر رہاہے ، وضاحت آچکی کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ آئی ایم ایف کے ایجنڈے میں نہیں بلکہ اسکا تعلق بین الاقوامی صورتحال سے ہے ، حکومت فی الوقت تین ترجیحات میں پھنسی نظر آتی ہے ، آئی ایم ایف ،بجٹ اور پنجاب سے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ،ان تینوں معاملات کابوجھ مسلم لیگ (ن) پر ہے کیونکہ بجلی ،گیس ، پٹرولیم اور اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں اضافے پر عوام کی تنقید کا نشانہ مسلم لیگ (ن) ہے پیپلزپارٹی یا دیگر پارٹیاں اس تنقید سے فاصلے پر ہیں ،آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی میں زیادہ وقت نہیں تاہم حساب کتاب کوئی پچیدہ نہیں ، سالانہ درآمدات پر جس میں کھانے پینے کی اشیا ء بھی شامل ہیں، ہر 70 ارب ڈالر ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں جبکہ ہماری برآمدات 25-30ارب ڈالر سے زیادہ نہیں 40-50ارب ڈالر کا فرق ہے، پھر کھربوں کے قرضوں کی ادائیگی کیساتھ کچھ لازمی اخراجات بھی ہیں جس کیلئے حکومت کو مزید مشکل فیصلے کرنا ہونگے، یہ طے ہے کہ آنیوالے دنوں میں پاکستان کے ہر طبقے پر معاشی بوجھ بڑھے گا۔جس کی وجہ سے غربت میں اضافہ اور مہنگائی مزید بڑھے گی ، اشیا ئے ضروریہ کے نرخوں میں توازن کیلئے سرکاری ایوانوں میں تجویز کو بڑھا یا جار رہا ہے کہ انڈیا سے محدود تجارت بحال کی جائے تاکہ لوگوں کو پڑوس سے سستی اشیاء مل سکیں ، مبصرین کا کہنا ہے کہ انڈیا سے تجارتی راہداری کو مستقل انداز سے بند نہیں کیا جا سکتا ، ملک میں پیاز ، ٹماٹر کی قلت ہو جائے تو ہمیں ایران ملائیشیا کا رخ کرنا پڑتا ہے ، انڈیا سے تجارت ایک سیاسی فیصلہ ہو گا ، باہر بیٹھے عمران خان کی موجودگی میں حکومت یہ فیصلہ کر پائیگی ؟، مشکل سوال ہے ،پاکستان کو اپنی ضروریات کیساتھ افغانستان کے معاملات پر بھی نظر رکھنا ہوتی ہے اس حقیقت کو صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ عالمی اقتصادی منظر نامہ جس میں روس یوکرائن جنگ تنازع کے اثرات ، روس اور ایرانی تیل پر یورپ اور امریکی پابندیاں ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز گھمبیر کر رہی ہیں ، پارلیمانی راہداریو ں میں خبریں گرد ش کر رہی ہیں کہ حکومت 28 جون سے پہلے اعلان شدہ بجٹ تجاویز پر نظر ثانی کر رہی ہے اور تنخواہ دار طبقے پر نئے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے،قابل تحسین پہلو ہے کہ مشکل فیصلوں کا سارا بوجھ نچلے طبقے پر ڈالنے کے بجائے وزیر اعظم نے پسماندہ طبقات کو ریلیف دینے پر توجہ مرکوز کی ہے ، عوامی حلقوں کی طرف سے اشرافیہ سے قربانی کا تقاضا بڑھ رہا ہے،اراکین پارلیمان بھی قدم بڑھائیں اور غریب طبقات پر معاشی بوجھ کم کرنے کیلئے اپنی تنخواہوں ار مراعات میں کمی کے فیصلے کا اعلان کریں۔