برطانیہ میں گھریلو صارفین بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث شدید مالی دبائو کا شکار

23 جون ، 2022

لندن(سعید نیازی) برطانیہ میں مہنگائی نے تھمنے سے انکار کردیا اور اس میں گزشتہ 40برس کے نسبت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور مئی تک گزشتہ ہفتے برس کے بہ نسبت مہنگائی میں9.1فیصد اضافہ ہوا، جن کی بڑی وجہ انرجی اور پیٹرول کی قیمتوں کا بڑھنا ہے، سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مہنگائی میں حالیہ اضافہ کی وجہ میں بریڈ، سیریل اور میٹ کی قیمتوں کا بڑھنا ہے، روز مرہ کی زندگی کے اخراجات میں اضافہ کے سبب ورکرزنے تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کیا ہے تاہم حکومت کو خدشہ ہے کہ آجروں کی طرف سے تنخواہوں میں اضافہ کے بعد 1970 والی وہ صورت حال پیدا ہوسکتی ہے جب تنخواہوں میں اضافہ کے باوجود قیمتیں بھی بدستور بڑھی تھیں، اس وقت مہنگائی کی شرح مارچ 1982 کے ہے تاہم بینک آف انگلینڈ نے انتباہ جاری کیا ہوا ہے کہ رواں برس مہنگائی میں 11فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایک سروے رپورٹ جس میں4ہزار افراد نے حصہ لیا میں سے 82فیصد کا کہنا تھا کہ تنخواہوں میں مہنگائی کی شرح سے اضافہ ہونا چاہئے۔ گھریلو صارفین اس وقت شدید مالی دبائو کا شکار ہیں کیونکہ اپریل میں انرجی بلز میں سالانہ یکشمت7سو پائونڈ کا اضافہ ہوا جس کے بعد جون میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد ایک اوسط کالر کی ٹینکی کو بھرنے میں ایک سو پائونڈ سے زائد کی رقم خرچ ہورہی ہے، منگل کو ملک بھر میں ریلوے کا نظام بھی دھرم بھرم رہا کیونکہ ریلوے ورکرز نےتنخواہوں میں اضافہ کیلئے ہڑتالوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس میں آر ٹی ایم یو نیٹ کے 49ہزار ورکرز حصہ لے رہے ہیں۔ یونین کے جنرل سیکرٹری جان رچرڈ کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ وزرا کسی اور سیارے میں رہ رہے ہیں کیونکہ انہیں حالات کااحساس ہی نہیں اور وہ تنخواہوں میں اضافہ کی بات نہیں کررہے، جبکہ ڈپٹی وزیراعظم ڈومینک روپ کا کہنا تھا کہ تنخواہوں میں اضافہ کے مطالبات کو روکنا ہوگا، کیونکہ اس سے مسائل مزید بڑھیں گے اور مہنگائی زیادہ دیر تک برقرار رہے گی جس سے غریب افراد زیادہ متاثر ہونگے۔ روس اور یو کرین کی جنگ کے سبب بھی مہنگائی بڑھی ہے۔ کیونکہ روس اور یو کرین آٹا اورمکئی برآمد کرنے والے بڑے ملک ہیں اور جنگ کے سبب سپلائی میں تعطل کے سبب بریڈ اور سیریل مہنگا ہوا ہے اس کے علاوہ یو کرین سے سن فلاور اور آئل بھی برآمد کرنے وا لے اب متبادل ذرائع سے اشیاحاصل کر رہے ہیں جس کے سبب ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ۔ ایک سپر مارکیٹ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اکثریت اب 30 پائونڈ تک کے پیٹرول ڈال رہی ہے جبکہ اس نے شاپنگ بھی محدود کردی ہے۔