ہسپتالوں میں ڈیمنشیا کے مریضوں کو ٹوائلٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں

23 جون ، 2022

لندن (پی اے ) ہسپتالوں میں ڈیمنشیا کے مریضوں پر مناسب توجہ نہیں دی جاتی اور انھیں انتہائی کسمپرسی کی حالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ڈیمنشیا کے مریضوں کو ٹوائلٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے،ایک 90سالہ خاتون کی بیٹی نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے یہ بتایا اس نے بتایا کہ جب وہ ہسپتال میں ماں سے ملنے گئے تو اس کا پورا بیڈ پیشاب سے تربتر تھا ،دروازے کھلے ہوئے تھے اس کو لگایا جانا پیڈ کھل کر اس کے پیروں میں آچکاتھا اور وہ پیشاب میں تر تھا اور وہ ننگی حالت میں پڑی تھی جبکہ ارد گرد کے بیڈز پر لوگ اسے دیکھ رہے تھے اور دروازے بھی کھلے ہوئے تھے۔اس نے بتایا کہ انھوں نے اپنی ماں وائلٹ وائلٹ کو جو ڈیمنشیا کی مریضہ ہیں گھر میں گر جانے کی وجہ سے گریٹر مانچسٹر کے ٹیم سائیڈ جنرل ہسپتال میں داخل کرایا تھا لیکن ہسپتال میں ان کی صحت اور خراب ہوگئی اور ان زیادہ پیشاب نکلنے کی وجہ سے ان کے جسم پر گندی خراشیں پڑ گئی اور چند ہفتے بعد ہی ان کا انتقال ہوگیا، اس نے بتایا کہ میری ماں کو جو اذیت اٹھانا پڑی اس کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کے گھروں میں ڈیمنشیا کے مریض ہیں انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہسپتال میں ڈیمنشیا کے مریض کو داخل کرکے بھول جاتے ہیں۔ بی بی سی کی جانب سے کرائی جانے والی ایک نئی ریسرچ سے بھی ظاہر ہوتاہے کہ ڈیمنشیا کے مریضوں کو اسی طرح کی بے وقعتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ویسٹ لندن یونیورسٹی کی ڈاکٹر کیٹی فیدر اسٹون کا کہنا ہے انگلینڈ اور ویلز کے 3ہسپتالوں میں ڈیمنشیاکے مریضوں کے پیشاب پاخانے کی حاجت محسوس نہ کرنےمرض کاعلاج کیا جاتاہے ،انھوں نے کہا کہ جو مریض خود اٹھ کر ٹوائلٹ نہیں جاسکتے وہ اسی طرح گندگی میں لتھڑے رہتے ہیں۔ ہم نے اسے پیڈ کلچر کا نام دیا ہے اور کیئر میں داخل ڈیمنشیا کے مریضوں کو روزانہ خواہ وہ حاجت کا احساس رکھتے ہوں تو بھی پیڈ پہنائے جاتے ہیں ،انھوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا طریقہ ہے لیکن کام کے بوجھ اور اسٹاف کی کمی کے سبب پیڈ بار بار تبدیل کرانا ممکن نہیں ہوتا۔86 سالہ بیسی کی بیٹیوں جینی اور سوسن نے بتایا کہ 2019 میں جب انھوں نے اپنی ماں کو گھر میں گرجانے کی وجہ سے رادرم جنرل ہسپتال میں داخل کرایا تو انھیں اپنی حاجات کا پورا احساس تھا لیکن جب وہ ٹوائلٹ جانے کی خواہش کرتی تھیں تو اسٹاف ان کی بات پر توجہ نہیں دیتاتھا اور ہسپتال نے انھیں پیڈ پہنادیا تھا جس کے بعد میری ماں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ خود پیشاب میں ڈوبتی رہے اسے پتہ تھا کہ وہ کیا کررہی ہے لیکن وہ بے بس تھی۔جینی اور سوسن کا کہناتھا کہ وہ سمجھ رہی تھیں کہ ان کی ماں کی چلنے پھرنے میں دقت کی وجہ سے وہ گھر میں دوبارہ گر سکتی ہیں جس پر انھوں نے انھیں ایک کیئر ہائوس میں داخل کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ہسپتال اور سوشل سروس نے اس سے اتفاق نہیں کیا انھوںنے کہا کہ بیسی کو کسی چیز کا احساس نہیں ہے اور انھیں گھر جانے کی اجازت دینے سے قبل ایک کیئر پلان میں رکھا جائے گا جہاں دیکھ بھال کرنے والے اضافی لوگ موجود ہوں گےکموڈ ہوگا اور پیڈ بھی ہوں گے،لیکن یہ سب کبھی نہیں ہوا جینی نے بتایا کہ بیسی کی پہلی رات میں ان کے ساتھ تھی جب کیریئر کموڈ لے کر آئے انھوں نے اس پر ماں کو بٹھایا لیکن لائونج کے پردے کھلے ہوئے تھے اور ایک بڑی شیشے کی کھڑکی تھی جب میں نے اعتراض کیا کہ پردے بند کئے بغیر تم نے میری ماں کو اس طرح کموڈ پر بٹھادیا ہے تو انھوں نے پردے بند کئے ،بی بی سی کے رابطہ کرنے پر ٹرسٹ اور رادرم کونسل نے بیسی کی فیملی سے معذرت کی ہے اورکہاہے کہ مریضوں کی دیکھ بھال کو مزید بہتر بنایاگیاہے۔