گلگت بلتستان کا 119ارب 32کروڑسے زائد کا ٹیکس فری بجٹ پیش

28 جون ، 2022

سکردو( نثار عباس، نامہ نگار) گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک کھرب 19 ارب 32 کروڑسے زائد کا ٹیکس فری بجٹ پیش کیاگیا۔بجٹ میں 9 ارب روپے کا خسارہ وفاقی حکومت فراہم کرے گی ۔گلگت بلتستان اسمبلی کا دوسرا بجٹ وزیر خزانہ جاوید منوا نے پیش کیا، ترقیاتی بجٹ کی مد میں 48 ارب جبکہ 61 ارب 44 کروڑ 6 لاکھ 40 ہزار روپے غیر ترقیاتی بجٹ کے لیےتجویزکئے گئے ہیں دس ارب روپے گندم سبسڈی کی مد خرچ ہونگے ،وزیر خزانہ جاوید منوا کے مطابق بجٹ میں دو ارب روپے کی غیر ملکی امداد بھی شامل ہے،بجٹ میں تعلیم پر دو ارب 25 کروڑ، صحت کے لیے ایک ارب بیس کروڑ،تعمیرات کے شعبے کے لیے پانچ ارب 39 کروڑ، پاور سیکٹر کے لئے تین ارب پچاس کروڑ ، دہی ترقی کے لیےایک ارب ایک کروڑ، جنگلات و جنگلی حیات کے لئے 17 کروڑ 48 لاکھ، معدنیات کے لیے 12 کروڑ 17 لاکھ ،خوراک کے لئے چار کروڑ 98 لاکھ، سیاحت و ثقافت کے لیے 28 کروڑ 85 لاکھ، سماجی بہبودپر 26 کروڑ 65 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، بجٹ میں عارضی ملازمین کی کم ازکم تنخواہ مقرر کرنے اور ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصداضافہ کرنے کی سفارش کی گئی ہےجبکہ گریڈ 20 سے اوپرکے افسران کو پچیس فیصد اضافہ دینے کی سفارش کی گئی ہے، نان ٹیکس محاصل تین ارب پچاس کروڑ،پی ایس ڈی پی کی ترقیاتی سکیموں کے لیے 18 ارب پچاس کروڑ روپے خرچ ہونگے، وزیر خزانہ کےمطابق 39 ارب 81 کروڑ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ھونگے جبکہ گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کردی گئی ،صوبے میں نئی آسامیوں کی تخلیق اور غیر ملکی دوروں پر پابندی عائدہوگی، صوبائی وزیر خزانہ کے مطابق مہنگے ہوٹلوں پر تقریباًت پر پابندی اور سرکاری افسران صرف ایک گاڑی رکھنے کے مجاز ھونگے۔