پاکستان سے کوئلہ تجارت کا کوئی معاہدہ نہیں ، افغان وزارت پٹرولیم

30 جون ، 2022

کراچی (نیوز ڈیسک) افغانستان کی وزارت پٹرولیم و معدنیات کے ترجمان مفتی عصمت اللہ برہان نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی اقتصادی قمیض اتنی پھٹی ہوئی ہے کہ اس میں افغانستان سے ملنے والے کوئلے میں چند ملین ڈالر کے فائدے سے رفو نہیں ہو سکتا، افغان طالبان کی حکومت کا پاکستانی حکومت کے ساتھ کوئلے کی تجارت کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اور کوئلے کو افغان حکومت مستقبل میں پاکستان کے لیے بطور ’پریشر پوائنٹ‘ استعمال کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز افغانستان سے کوئلے کی درآمد کے بارے میں ایک اجلاس میں بتایا تھا کہ افغانستان سے کوئلے کی درآمد سے ملک کو دو ارب ڈالرز سے زیادہ بچت ہوگی۔ برطانوی میڈیا کی اُردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان کی وزارت پیٹرولیم کے ترجمان مفتی عصمت اللہ برہان نے بتایا کہ افغان طالبان کی حکومت کا پاکستان کے ساتھ کوئلے کی برآمد کا کوئی معاہدہ ہے اور نہ کوئی مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے ہیں، ’ہم نے حکومتی سطح پر اور نہ کسی پاکستانی کمپنی کے ساتھ کوئلے کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے لیکن ہم کوئلہ مقامی صنعت کاروں کو بیچتے ہیں اور یہی کوئلہ مقامی صنعت کار پھر پاکستان برآمد کرتے ہیں اور اس پر ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے‘۔ اس سوال پر کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین کوئلے کی تجارت میں افغان طالبان کے آنے کے بعد کوئی اضافہ ہوا ہے؟ عصمت اللہ کا کہنا تھا ’ہم ڈالر اور یورو کے مزے سے باخبر ہیں اور پاکستانی کرنسی کی خراب حالت کا بھی ہمیں پتہ ہے تو پاکستان سے ہمیں کسی فائدے کی امید نہیں ہے، ہمارے لیے پاکستان اور ان کے کوئلے کی ضرورت اہم نہیں ہے بلکہ ہمارے لیے اپنے مقامی تاجر اہم ہیں اور ہم ان کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں، مقامی تاجر جس ملک کو بھی چاہیں کوئلہ بھیج سکتے ہیں لیکن بیرون ملک کوئلہ برآمد کرنے پر ہم نے اس پر ڈیوٹی عائد کی ہے۔‘ عصمت الله نے مزید کہا کہ ’پاکستان کو ہماری طرف سے اور افغان عوام کی طرف سے پاکستانی وزیراعظم بیان پر رد عمل کا اندازہ اب تک ہوا ہوگا اور ہم نے انتقام کے طور پر کوئلے پر فی ٹن ڈیوٹی 90؍ ڈالر سے بڑھا کر اب 200؍ ڈالر کردی ہے، ہم مقامی تاجروں کو فی ٹن کوئلہ تین سے چار ہزار افغانی (تقریبا آٹھ ہزار پاکستانی روپے) پر دیتے ہیں اور جب یہ کان سے نکلتا ہے تو مقامی تاجروں کو تقریبا پانچ ہزار افغانی کا پڑتا ہے اور طورخم جانے تک ٹرانسپورٹ کے اخراجات سمیت فی ٹن آج کل پاکستان کو 280؍ ڈالر تک ملتا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے تقریباً چار سال تک کوئلے پر مقامی تاجروں کے لیے 30 فیصد قیمتوں میں اضافہ کیا تھا لیکن اس کی قیمت اب بھی مقامی تاجروں کے لیے وہی ہے اور ڈیوٹی صرف اس کوئلے پر ہوگی جو ملک سے بیرون ملک برآمد کیا جائے گا۔ اس سوال کے جواب میں عصمت الله کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی اقتصادی قمیض اتنی پھٹی ہوئی ہے کہ اس میں افغانستان سے ملنے والے کوئلے میں چند ملین ڈالر کے فائدے سے رفو نہیں ہو سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے لیے پاکستان یا ان کی ضرورت اہم نہیں ہے بلکہ ہم مقامی تاجروں کو آسانیاں پیدا کرتے ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ہم مقامی تاجروں کو کوئلہ بیچتے ہیں اور وہ پھر دیگر ممالک کو برآمد کرتے ہیں۔