شکست خوردہ شادی، انٹرپول، ریڈ نوٹس اور تحویل کی جنگ

30 جون ، 2022

لندن/دبئی (مرتضیٰ علی شاہ)شکست خوردہ شادی، انٹرپول، ریڈ نوٹس اور تحویل کی جنگ، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے عمر فاروق ظہور سے تفتیش کیسے کی؟ تفصیلات کے مطابق جون 2020 کے اوائل میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) لاہور کے کارپوریٹ سرکل کو ایک متعلقہ شہری خوش بخت مرزا کی جانب سے دبئی میں مقیم پاکستانی نارویجن تاجر عمر فاروق ظہور کے تقریباً 16 ارب روپے کے مبینہ فراڈ اور منی لانڈرنگ کی سنسنی خیز شکایت موصول ہوئی۔ اداکار اور ماڈل خوش بخت مرزا (جنہیں شوبز اور میڈیا انڈسٹری میں صوفیہ مرزا کے نام سے جانا جاتا ہے) کی جانب سے دائر کی گئی شکایت میں الزامات کی ایک لمبی چارج شیٹ شامل تھی جس میں ایف آئی اے پر زور دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان کے نام کی خاطر اور پاکستان کے خلاف مالی جرائم کو روکنے کے لیے تاجر عمر فاروق ظہور کے خلاف کارروائی کرے۔ یہ شکایت وزارت داخلہ کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت کے وفاقی کابینہ کے ایجنڈے تک پہنچ گئی، جسے اثاثہ جات ریکوری یونٹ (اے آر یو) کے چیئرمین مرزا شہزاد اکبر چلا رہے تھے اور وفاقی حکومت نے ایف آئی اے کو عمر ظہور اور ان کے رشتہ دار سلیم احمد کی جانب سے 16 ارب روپے سے زائد کے مبینہ فراڈ کی تحقیقات کی اجازت دے دی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے کابینہ کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل نے دونوں کیسز میں انکوائریاں مکمل کرنے کے بعد عمر ظہور کے خلاف دو الگ الگ مقدمات درج کیے اور انکوائریوں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ عمر فاروق ظہور اور شریک ملزم نے 2010 میں ناروے کے شہر اوسلو میں مبینہ طور پر 89.2 ملین ڈالرز کا بینک فراڈ کیا تھا اور ایک اور فراڈ جس میں 2004 میں برن، سوئٹزرلینڈ میں 12 ملین ڈالر کی رقم شامل تھی۔ اس نمائندے نے اداکارہ صوفیہ کی جانب سے جون 2020 میں ایف آئی اے کو کی گئی اصل شکایت کی کاپی حاصل کر لی ہے جس پر ظہور کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔ دو صفحات سے زیادہ کی اپنی درخواست میں بطور پاکستان کی قانونی شہری اداکارہ نے کہیں بھی یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ عمر فاروق ظہور کی سابقہ ​​اہلیہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمر فاروق ظہور اور ان کا خاندان منی لانڈرنگ، ناروے، اوسلوسمیت مختلف ممالک میں جرائم اور فراڈ؛ ایک بینک کو 20 ملین ڈالر کا دھوکہ دینےمیں ملوث ہے اور یہ کہ ظہور ناروے میں سزا یافتہ اور مطلوب ہے؛ سوئٹزرلینڈ میں 120 ملین ڈالر کا فراڈ کیا ہے؛ نابالغوں کی اسمگلنگ میں ملوث ہے؛ 9.37 ملین ترک لیرا کا فراڈ کیا؛ گھانا میں 510 ملین ڈالر کے مشکوک معاہدے پر عمل درآمد کیا، کالے دھن کی شکل میں لاکھوں ڈالر کی نقدی کا مالک ہے؛ اور دبئی اور پاکستان میں کروڑوں ڈالر مالیت کے کئی مکانات اور جائیدادوں کا مالک ہے جن میں دبئی کے اعلیٰ درجے کے اضلاع، سیالکوٹ، گوادر اور اسلام آباد شامل ہیں۔ کابینہ نے سمری کی منظوری سے قبل کوئی سوال نہیں پوچھا لیکن جو بات وزارت داخلہ نے کابینہ سے چھپائی وہ سب سے اہم اور تباہ کن حقیقت تھی کہ متعلقہ شہری خوش بخت مرزادرحقیقت عمر فاروق ظہور کی سابقہ ​​بیوی ہے جس کے ساتھ اس کا اپنی دو بیٹیوں کی کفالت پر دیرینہ تنازعہ چل رہا ہے۔ جڑواں بہنیں زینب اور زونیرہ 2008 سے اپنے والد کے ساتھ دبئی میں رہ رہی ہیں جب دونوں کی شادی تلخ طلاق پر ختم ہوگئی تھی۔ کابینہ کو نہیں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ایک شرعی عدالت نے جوڑے کی بیٹیوں کی تحویل کا معاملہ پہلے ہی طے کر لیا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے کو ظہور کے ٹھکانے کا بخوبی علم ہے۔ کرپشن کے دو مقدمات درج ہونے سے پہلے خوش بخت ان کی ہی بیٹیوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ عمر فاروق ظہور اور دیگر کے خلاف درج کروانے میں بھی کامیاب ہو گئی تھی۔ایف آئی اے نے، اس حقیقت سے باخبر ہونے کے باوجود کہ یہ ملک کا طے شدہ قانون ہے کہ اپنے بچوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ والدین میں سے کسی کے خلاف درج نہیں ہو سکتا، شہزاد اکبر کی ہدایت پر عمر فاروق کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی کارروائی کی جو اس وقت وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی تھے۔ وفاقی کابینہ کی جانب سے سمری منظوری ہونےکے فوری بعد ایف آئی اے لاہور نے عمر فاروق ظہور کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا گیا؛ایک ایف آئی آر میں غیر ضمانتی وارنٹ عدالت سے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر حاصل کیے گئے اور مذکورہ غیر ضمانتی وارنٹ کی بنیاد پر ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلیک لسٹ کر دیا گیا اور ظہور کی گرفتاری کے لیے نیشنل کرائم بیورو پاکستان نے انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ جاری کردئیے۔ عمر فاروق ظہور، جو پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے خطوں کے لیے 2019 سے جمہوریہ لائبیریا کے لیے بڑے سفیر ہیں، ایف آئی اے کی کارروائی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی اور معاملہ عدالت میں پہنچ گیا جہاں اہم حقائق سامنے آئےجن سے ثابت ہوا کہ ایف آئی اے کی کارروائی انتقامی تھی اور ایجنسی کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔