شاہ محمود کا بیان ،اگلی سیاسی منزل کےبارے میں قیاس آرائیاں

30 جون ، 2022

اسلام آباد (تبصرہ /فاروق اقدس/نامہ نگار خصوصی) سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 2018میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر اپنی شکست کا الزام پارٹی پر لگانے اور پھر اس بیا ن کی وضاحت کر دی ہے ،اس کے باوجود سوشل میڈیا پر ان کے بیان کا پس منظر اور موجودہ حالات میں ان کی سیاست کے حوالے سے آراء اور چہ میگوئیوں کا آغاز بھی ہوگیا ہے جس میں ان کی اگلی سیاسی منزل کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں، تاہم یہ استفسار اپنی جگہ پر بہرحال وزن رکھتا ہے کہ آخر شاہ محمود قریشی صاحب کو یہ سیاسی دکھ آخر چار سال بعد کیوں یاد آیا، ہرچند کہ وہ ملتان میں ضمنی الیکشن کی مہم کیلئے ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے اگر وہاں ان کا یہ چار سال پرانا ’’ سیاسی زخم‘‘ تازہ ہوبھی گیا تھا تو اس کی وجوہات کا اظہار انہوں نے ’’پارٹی کی سازش ‘‘ جیسے جن الفاظ میں کیا اس سے یقیناً تنظیمی سطح پر ہی نہیں بلکہ عوامی اور سیاسی سطح پر بھی اس کے اثرات کچھ اچھے مرتب نہیں ہوں گے بالخصوص ایک ایسے موقع پر جب چند دنوں بعد ضمنی انتخاب کا مرحلہ آنے والا ہے، بعض حلقے جن کا شمار ان کے مخالفین میں کیا جاتا ہے شاہ محمود قریشی کے اس بیان کے تناظر میں جو پیشگوئیاں، قیاس آرائیاں اور دعوے کر رہے ہیں کہ ایک ایسے موقعے پر جب تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا کردار غیر معمولی سطح پر اہمیت اختیار کر رہا ہے تو وزیر خارجہ کے منصب سے محرومی ان کیلئے خاصی تکلیف دہ ہوگی اور اس کیلئے وہ اپنی پرانی جماعت پیپلز پارٹی میں واپسی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے ’’وزیراعظم‘‘ بننے کا انتظار بھی کرسکتے ہیں بشرطیکہ انہیں کوئی یقین دہانی یا قابل بھروسہ اشارہ مل جائے اور موجودہ بیان اسی خواہش کے طویل اور صبر آزما انتظار کی ابتدائی حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے۔