100برسوں میں کئی جاپانی شخصیات پر قاتلانہ حملے ہو چکے

10 جولائی ، 2022

پیرس (نیوز ڈیسک)جاپان کے سابق وزیراعظم کو انتخابی مہم کے دوران فائرنگ کرکے قتل کردیاگیا ۔ سابق وزیر اعظم شنزو ایبے گزشتہ 100برسوں میں قتل ہونے والے پہلے جاپانی حکمران نہیں ہیں۔ جب بات ہائی پروفائل اور نامور شخصیات کی جان پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے کی جائے تو غیر متشدد اور سیاسی لحاظ سے روادار ملک کی حیثیت سے پہچانے جانے والے ملک جاپان تاریخ غیر متزلزل رہی ہے۔ نومبر 1921 میں اس وقت کے جاپانی وزیر اعظم تاکاشی ہارا کو ٹوکیو ریلوے اسٹیشن پر دائیں بازو کے سوئچ مین ناکا اوکا نے کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے چھری کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ قاتل نے تاکاشی ہارا کی سائبیریا میں مداخلت کے معاملے پر تنقید کی تھی۔ اس واقعے کی وجہ سے فوج اور حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، قاتل کو عمر قید کی سزا ملی لیکن اس نے صرف 13 سال جیل کاٹی۔ نومبر 1930 میں ایک اور جاپانی حکمران اوساچی ہماگوچی کو ٹوکیو ریلوے اسٹیشن پر پیٹ میں گولی مار دی گئی۔ "شیر وزیراعظم" کے نام سے مقبول اوساچی ریل میں سوار ہونے ہی والے تھے کہ حملہ ٹومیو ساگویا نے ان کے پیٹ میں گولی مار دی۔ مجرم دائیں بازو کے اس گروپ کا حامی تھا جو اس وقت کے جاپانی وزیر اعظم کے تخفیف اسلحہ کے معاہدے کی توثیق کے فیصلے سے مشتعل تھے، یہ گروپ اس اقدام کو فوج کے "سپریم کمانڈ کے حق" کی خلاف ورزی قرار دیتا تھا۔ اوساچی اس حملے میں بچ تو گئے لیکن زخموں سے مکمل طور پر صحت یاب نہ ہو پائے۔ حملے کے 8؍ ماہ بعد 26 اگست 1931 کو انتقال کر گئے۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک پر طویل عرصہ تک حکمرانی کرنے والے بادشاہ ہیروہیٹو پر 1920 اور 1930 کی دہائی میں تین قاتلانہ حملے ہوئے، حملہ آور کوریائی یا جاپانی تھے۔ پہلا واقعہ 27 دسمبر 1923 کو اس وقت پیش آیا جب ایک حملہ آور دائسوکے نمبا نے ولی عہد شہزادے کی گاڑی پر فائر کیا جس سے کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ ولی عہد شہزادہ ہیرو ہیٹو کو کوئی نقصان نہیں پہنچا لیکن ان کا خادم زخمی ہوگیا۔ حملہ آور کینٹو زلزلے کے بعد آنے والے بحران کے دوران جاپانی انارکسٹس اور کوریائی باشندوں کے قتل کے واقعات سے ناراض تھا۔ اگرچہ اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے منطقی اقدام کیا لیکن 24سالہ حملہ آور کو پاگل قرار دیا گیا۔ موت کی سزا سنائے جانے کے بعد اس نے ’’جاپان کی کمیونسٹ پارٹی زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگایا۔ ہیرو ہیٹو پر دوسری مرتبہ 1925میں ناکام حملہ کیا گیا۔ ہیرو ہیٹو کی زندگی پر تیسری کوشش 1932 میں کورین محب وطن تنظیم پیٹریاٹک لیجن کے رکن لی بونگ چانگ نے کی جسے 30 ستمبر 1932 کو سزا سنائی گئی اور پھر سزائے موت دیدی گئی۔ فروری 1932میں حملہ آوروں کی غلط شناخت کے نتیجے میں اس وقت کے وزیر اعظم کیسوکے اوکاڈا کی بجائے ان کے بہنوئی کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ ایک اور وزیراعظم کنتارو سوزوکی بھی حملے میں بال بال بچ گئے، تاہم ایک گولی تمام عمر ان کے جسم کے اندر رہی۔ 15مئی 1932 کو نیول فوج کے تقریباً 11افسران وزیرِ اعظم سویوشی انوکائی کو گولی مار دی تھی۔ اس بغاوت کا مقصد جمہوری حکومت کو ہٹا کر کنٹرول فوج کے حوالے کرنا تھا۔ اس گروپ نے مشہور برطانوی کامیڈین چارلی چپلن کے قتل کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔ منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ چپلن ایک امریکی شہری ہیں اور ان کے قتل کے نتیجے میں امریکا کے ساتھ جنگ ​​ہوگی۔ جاپان کے دورے پر گئے ہوئے چپلن کو 15مئی ایک دعوت میں شرکت کرنا تھی لیکن انہوں نے اچانک اپنا شیڈول تبدیل کر دیا اور اس وقت کے وزیر اعظم کے بیٹے کے ساتھ سومو ریسلنگ کا میچ دیکھنے روانہ ہوئے۔